رہبر اعلیٰ زندہ ہیں، دشمن اُن کا سراغ لگانے میں ناکام ہوچکا: مسعود پزشکیان

فوٹو: فائل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں، یہ امریکا ہے جو ہمارے خطے میں داخل ہوا ہے، ہمارے رہبر اعلیٰ زندہ ہیں۔

ایک انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ ہم نے نہیں امریکا اسرائیل نے شروع کی، ہم اس جنگ میں اپنا دفاع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں، ہمیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) یا خطے کے کسی اور ملک سے کوئی مسئلہ نہیں، خطے کے ممالک ہمارے بھائی ہیں۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہمیں خطے کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے مسئلہ ہے، جہاں سے ایران پر حملے ہوتے ہیں، یہ امریکا ہے جو ہمارے خطے میں داخل ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے دوست پڑوسی ممالک کو اپنی سرزمین سے ایران پر حملوں کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ہم خطے کے تمام ممالک سے خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں لیکن امریکا ایسا ہونے نہیں دینا چاہتا۔

مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ امریکا خطے کے پیٹرولیم ذخائر کو اپنے استعمال میں لانا چاہتا ہے، امریکا اپنے ہتھیار میزائل فروخت کرکے خطے کا امن و استحکام تباہ کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی سیکیورٹی کے لیے خطے کے ممالک کو خودمل کر کام کرنا چاہیے، امریکا دنیا کو بتاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا کر دنیا تباہ کرنا چاہتا ہے، دنیا دیکھ لے کہ غزہ اور لبنان میں روز قتل عام کون کر رہا ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان دوست ہمسایہ ملک ہے، جس نے امن کے لیے بہت مدد کی، قطر نے بھی مدد کی۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد بھی ہم سے دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ سمجھ سے باہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت میں ہم نے امریکی پابندیاں ختم ہونے کا لکھا تھا، جو انہیں ختم کرنا ہوں گی۔ جنگ ہم نے شروع نہیں کی تھی، جارحیت امریکا کو ہی ختم کرنا ہوگی۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہاں جوہری معاملات کے لیے ہمیں بیٹھ کر بات کرنی تھی، اس کے لیے ہم تیار ہیں، امریکا سے براہ راست مذاکرات کے بارے میں ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایرانی عوام کے دلوں میں بسنے والے رہنما کا قتل کیا ہے جو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا، واشنگٹن پہلے دن سے ہماری حکومت گرانا چاہتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ہماری سعودی عرب سے جنگ نہیں، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں، جب یورپی ممالک ایک ساتھ مل کر اپنی سیکیورٹی، تجارت کےلیے قوانین بنا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے رہبر اعلیٰ زندہ ہیں اور پہلے کی طرح نظام کے اندر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دشمن ان کے ٹھکانے کا سراغ لگانے میں ناکام رہا اسی لیے مختلف قیاس آرائیاں کر رہا ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن ہمارے نئے رہبر اعلیٰ کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے، امریکا دنیا کو بتاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا کر دنیا تباہ کرنا چاہتا ہے۔