47 سالہ افغان خاتون کی امریکا بدری کا فیصلہ کامیابی قرار

امریکی حکام نے 47 سالہ افغان خاتون نذیرہ حاجی زادہ کی ملک بدری کو قومی سلامتی کےلیے کامیابی قرار دیدیا۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایلین ٹررسٹ ریموول کورٹ کا پہلی بار استعمال کیا گیا اور ٹیکساس میں مقیم افغان خاتون کو ملک بدر کردیا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 47 سال کی افغان خاتون نے ملک بدری کے خلاف اپیل کا حق چھوڑ دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نذیرہ حاجی زادہ کے خلاف خود کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں تھا، اس کے بیٹے اور داماد دہشت گردی کی سازش میں سزا یافتہ ہیں۔

امریکی استغاثہ نے افغان خاتون پر خاندان کو انتہائی پسندی کی طرف مائل کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ نذیرہ حاجی زادہ کے وکلاء نے شواہد تک رسائی نہ ملنے کا دعویٰ کیا۔

امریکا میں ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ 1996ء میں قائم ہوئی تھیں جبکہ خصوصی عدالت نے جولائی میں پہلی مرتبہ کسی مقدمے کی سماعت کی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وکلاء نے خصوصی عدالت کی کارروائی کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ امریکی اٹارنی جنرل نے ملک بدری کو قومی سلامتی کےلیے کامیابی قرار دیا ۔

وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ ملک بدری پر رضا مندی عدالت کی قانونی حیثیت کی توثیق نہیں ہے۔