حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے بھائی نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کے لیے دوسرا خط ارسال کر دیا۔
خط کے متن کے مطابق مرکزی ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کیس پر اثرانداز ہونے اور شواہد ٹیمپر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کامل اصغر کے پولیس اور فرانزک ٹیموں سے رابطے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جبکہ ان کے وائس نوٹس تفتیش میں مداخلت کے شواہد کے طور پر موجود ہیں۔
مقتولہ کے اہلخانہ نے قومی کمیشن اور وفاقی حکومت سے کامل اصغر کے مبینہ کردار پر رپورٹ طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے، خط میں حنا جاوید قتل کیس کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
خط کے مطابق اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ مجبوراً بار بار قومی کمیشن سے رجوع کر رہے ہیں کیونکہ اب تک تحقیقات غیرجانبدار نہیں ہیں، ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کی جانب سے تفتیش کا رخ موڑنے اور شواہد میں ٹیمپرنگ کے ثبوت موجود ہیں۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ 4 ستمبر کو پولیس لائنز ہیڈکوارٹر میں پولیس حکام سے اہلخانہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں لاہور سے ڈی آئی جی شعیب خرم، سی پی او حسن مشتاق سکھیرا اور ایس ایس پی طارق محبوب بھی شریک تھے۔
حنا جاوید کے اہلخانہ نے پولیس حکام کے سامنے اپنے تحفظات رکھتے ہوئے بتایا کہ قتل کی ذمے داری اصل ملزم کے بجائے گھریلو ملازم پر ڈالی جا رہی ہے۔
اہلخانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں یقین ہے ملزم فیصل اصغر کا بھائی کامل اصغر تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش میں کردار ادا کر رہا ہے، کامل اصغر کے ایسے وائس نوٹس بھی موجود ہیں جو انہوں نے مقتولہ کے اہلخانہ کو بھیجے۔
خط میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ کامل اصغر پولیس کے ساتھ فعال طور پر ملی بھگت کر رہے ہیں، پولیس کی مبینہ جانبداری اور ملزمان سے ملی بھگت قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔
مقتولہ کے بھائی نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سے حنا جاوید قتل کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی ہدایت کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت قومی کمیشن دیوانی عدالت کے اختیارات استعمال کرسکتا ہے اور گواہان، شواہد اور مقدمے کا تمام ریکارڈ طلب کرسکتا ہے۔
متن کے مطابق حنا جاوید کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیا، اہلخانہ غیرجانبدار تحقیقات اور انصاف کے منتظر ہیں۔