آئرلینڈ جنگ اور نسل کشی کو معمول کی بات بنانے کا عمل قبول نہیں کرے گا، آئرش صدر نے ٹرمپ کو بتا دیا

فوٹو: رائٹرز 

آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ اور نسل کشی کو معمول کی بات بنانے کا عمل قبول نہیں کرے گا۔

 ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ سے ملاقات میں اس حوالے سے آئرش عوام کا پختہ موقف ٹرمپ کو پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کو بتا دیا ہے کہ آئرلینڈ ہولناک جنگ اور تشدد کے شکار خطوں میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئرلینڈ کے دونوں حصوں کو متحد دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، صدر ٹرمپ نے آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن سے گفتگو کی۔

اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ ری پبلک آف آئرلینڈ اور ناردرن آئرلینڈ کا اتحاد بالآخر ہوگا تو کیوں نہ ابھی ہو جائے۔

صدر ٹرمپ نے آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی سے بھی ملاقات کی۔ کونولی نے 2019 میں ٹرمپ کے آئرلینڈ کے دورے کے خلاف احتجاج میں شرکت کی تھی۔

خیال رہے کہ  1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے تحت شمالی آئرلینڈ کے برطانیہ سے علیحدہ ہوکر آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کے لیے ریفرنڈم صرف برطانوی حکومت کی صوابدید پر کروایا جا سکتا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں آئرش قوم پرستوں اور برطانوی یونینسٹوں کے درمیان تین دہائیوں سے جاری پرتشدد تنازع ختم ہوا تھا۔

شمالی آئرلینڈ میں برطانیہ کے ساتھ اتحاد کی حامی سب سے بڑی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے سربراہ گیون رابنسن نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد ’’ہمارے ملک کی تباہی‘‘ کا باعث بنے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ شمالی آئرلینڈ کے آئینی مستقبل کا فیصلہ لندن، ڈبلن یا واشنگٹن میں ہونے والی گفتگو سے نہیں بلکہ شمالی آئرلینڈ کے عوام کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف سابق امریکی صدور کی پالیسی سے مختلف ہے۔ جو بائیڈن سمیت متعدد امریکی صدور، خصوصاً آئرش پس منظر رکھنے والے صدور، شمالی آئرلینڈ کے آئینی مستقبل کے معاملے پر غیر جانب دار رہنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ امریکی حکومت نے 1998 کے امن معاہدے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

شمالی آئرلینڈ میں ہونے والے حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق اب بھی واضح اکثریت برطانیہ کے ساتھ رہنے کی حامی ہے، تاہم برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے بعد آئرلینڈ کے اتحاد کا معاملہ سیاسی ایجنڈے پر زیادہ نمایاں ہوا ہے۔

ٹرمپ کے ڈبلن سے روانہ ہونے کے بعد ہزاروں افراد نے وسطی ڈبلن میں احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ کو جنگ کا حامی قرار دینے والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور ’’ فری فلسطین‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔