لاہور ہائی کورٹ نے بچوں کی حوالگی کے کیس میں تینوں بچے ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کا 27 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچے کی فلاح و بہبود تحویل کے معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، بچے کسی والدین کی ملکیتی چیز نہیں، بچوں کی مستقل تحویل کا فیصلہ والدین کے رشتے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین کورٹ نے بچوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر کرنا ہے، غیر معمولی حالات میں ہائی کورٹ بچے کی فوری تحویل بحال کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ والد گارڈین کورٹ میں بچوں کی مستقل تحویل کے لیے اپنا دعویٰ پیش کر سکتا ہے۔