پاپ گلوکاری کے بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن کے بارے میں یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 2 ہزار 700 ایکڑ زمین کے مالک تھے۔
کیلیفورنیا کی سانتا باربرا کاؤنٹی میں موجود اس زمین کو 1981ء میں پراپرٹی ڈیولپر ولیم بون نے خرید کر اس کا نام ’سائیکامور ویلی رینچ‘ رکھا اور اسے ایک وسیع پرائیویٹ اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا، جس میں ایک عالی شان گھر، باغات، ایک آبشار کے ساتھ 4 ایکڑ پر مشتمل جھیل بھی شامل تھی۔
مائیکل جیکسن نے پہلی بار 1983ء میں پال میک کارٹنی سے ملاقات کے دوران اس پراپرٹی کو دیکھا جو کہ وہاں اپنی ایک میوزک ویڈیو کی شوٹنگ کے لیے ٹھہرے ہوئے تھے اور پھر 5 سال بعد اسے خرید لیا۔
اُنہوں نے یہ پراپرٹی خریدنے کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے ’نیورلینڈ رینچ‘ رکھا، اور پھر اسے مکمل طور پر ایک پرائیویٹ تھیم پارک میں تبدیل کروا دیا، اس پارک کو بنوانے کی سب سے بڑی وجہ ان کا بچپن محرومیوں میں گزارنا اور بیمار بچوں کی مدد کرنا تھا۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس پراپرٹی میں فرانسیسی طرز کا پُرتعیش گھر، فلم تھیٹر، جھیل، ٹرین اسٹیشن اور تھیم پارک شامل تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پراپرٹی میں ایک فیرس وہیل، کیروسل، بمپر کاریں، دیگر سواریاں اور ایک چڑیا گھر بھی تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس پراپرٹی کی سب سے زیادہ قابلِ شناخت خصوصیات میں ایک کیتھرین اسٹیشن تھا، جس کا نام گلوکار کی والدہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2003ء میں حکام نے تحقیقات کے دوران اس پراپرٹی کی تلاشی لی اور پھر مائیکل جیکسن کو ایک 14 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کے 10مختلف الزامات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہوں نے دوبارہ اس پراپرٹی میں کبھی قدم نہیں رکھا۔
گلوکار کے 2009ء میں انتقال کے بعد اس پراپرٹی میں بنے تھیم پارک کو ختم کر کے پراپرٹی کا نام دوبارہ سے ’سائکیمور ویلی رینچ‘ رکھ دیا گیا اور 2015ء میں اسے نیلامی کے لیے پیش کر دیا گیا جسے بالآخر 2020ء میں ایک ارب پتی تاجر رونالڈ برکل نے 22 ملین ڈالرز میں خریدا۔