بھارت میں قید کشمیری رہنما یاسین ملک نے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کر دیا۔
بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا ہے کہ کشمیر کے لیے سزائے موت بھی مل جائے تو قبول ہے۔
سری نگر کی عدالت میں جمع کرائے گئے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں یاسین ملک نے 1990ء کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کی دوٹوک تردید کر دی۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت 36 سال بعد مجھے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے پھانسی دینے کی سازش کر چکی ہے، میں اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتا ہوں،عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب عائد جرم قبول کرنا نہیں۔
بھارتی حکومت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے جے کے ایل ایف کے رہنما یاسین ملک نے کہا ہے کہ واجپائی دورِ حکومت میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا نے پاک بھارت تعلقات میں مثبت کردار ادا کرنے کو کہا اور پھر بعد میں پاکستان سے تعلقات کو میرے خلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا۔
کشمیری رہنما نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو پیغام دیا کہ آپ نے بہادری کے ساتھ میرا ساتھ دیا، آپ کو اپنی رفاقت سے آزاد کرتا ہوں۔
یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو نکاح سے آزاد کرتے ہوئے بڑی عزت اور پیار کے ساتھ اُن سے درخواست کی ہے کہ ابھی آپ کی بہت عمر پڑی ہے آپ ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔
انہوں نے بیٹی رضیہ سلطانہ کو تاکید کی ہے کہ اپنی دادی کو روزانہ سرینگر فون کریں تاکہ انہیں اس مشکل وقت میں تنہائی کا احساس نہ ہو۔
واضح رہے کہ یاسین ملک 2019ء سے تہاڑ جیل میں قید ہیں، بھارتی عدالت نے 2022ء میں انہیں بوگس مقدمے میں 2 مرتبہ عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، ان پر ہندو نرس سرلا بھٹ کے قتل کا مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے۔