اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے نگراں ادارے نے تصدیق کی ہے کہ شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں سابق صدر بشار الاسد کے دورِ حکومت میں جوہری ری ایکٹر تعمیر کیا جا رہا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے گزشتہ روز جاری کی گئی خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارے کی ٹیم نے اگست میں شام کے کئی مقامات کا دورہ کیا اور جوہری سرگرمیوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیر الزور کے مقام پر دریافت ہونے والا ٹھنڈا رکھنے کا نظام جوہری ری ایکٹر کے نظام سے مطابقت رکھتا ہے۔
ایجنسی نے کہا ہے کہ کھدائی کا عمل آگے بڑھنے کے ساتھ وہ اس مقام کی نگرانی جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ شام میں اسد حکومت کے دور میں ایک وسیع اور خفیہ جوہری پروگرام ہونے کا شُبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق دیر الزور میں شمالی کوریا کی مدد سے زیرِ تعمیر ری ایکٹر کا انکشاف 2007ء میں اس وقت ہوا جب اسرائیل نے فضائی حملے کر کے اس تنصیب کو تباہ کر دیا تھا۔
بعد ازاں شام نے اس مقام کو مسمار کر دیا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سوالات کا مکمل جواب نہیں دیا۔
آئی اے ای اے ایجنسی کے مطابق سابق شامی حکام نے جوہری مواد، تنصیبات اور سرگرمیوں کی بروقت اطلاع نہیں دی تھی۔
ادارے نے دیر الزور کے ری ایکٹر کے علاوہ ایندھن تیار کرنے والی ایک تنصیب اور جوہری ایندھن، یورینیئم کے بچے ہوئے مواد اور فضلے کے ذخیرے کے ایک مقام کی بھی نشاندہی کی ہے۔
دسمبر 2024ء میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی شامی حکومت نے جوہری توانائی کے ادارے کے معائنہ کاروں کو مشتبہ سابق جوہری مقامات تک رسائی دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
ایجنسی نے 2024ء میں دیر الزور کے مقام سے نمونے لیے تھے جن میں یورینیئم کے ذرات موجود ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔
دورۂ شام کے دوران جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ رافائل گروسی اور اعلیٰ معائنہ کاروں کی ٹیم نے ایک ایسے مقام کا بھی دورہ کیا تھا جس کے بارے میں پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
نئی شامی انتظامیہ نے 17 جولائی کو خط کے ذریعے اس مقام کی موجودگی سے ادارے کو آگاہ کیا اور وہاں موجود ممکنہ جوہری مواد کی جانچ اور تصدیق کے لیے تعاون کی پیشکش کی تھی۔
ادارے کے مطابق اس مقام پر قدرتی یورینیئم سے بنی ایندھن کی سلاخیں موجود تھیں، معائنہ کاروں نے تقریباً 73 ٹن قدرتی یورینیئم کی موجودگی کی تصدیق کی تھی جسے فی الحال ادارے کی نگرانی اور حفاظتی انتظامات کے تحت رکھا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی شامی حکومت نے شہری جوہری توانائی کا پروگرام تیار کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ملک میں ملنے والا تمام جوہری مواد شام کی تحویل میں رہے گا اور بین الاقوامی حفاظتی نگرانی کے تابع ہو گا۔