بالی ووڈ کے سینئر اداکار اجے دیوگن نے ہدایتکار ککو کوہلی کی موت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوہلی نے میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ فلمساز و ہدایت کار ککو کوہلی منگل کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
ککو کولی نے 1991 میں اپنی فلم پھول اور کانٹے میں اجے دیوگن کو متعارف کروایا جو کہ اجے کی بالی ووڈ میں اداکاری کے سفر کا آغاز بھی تھی۔
اجے دیوگن نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ککو کوہلی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا، کچھ لوگ آپ کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔ ککو جی بھی میرے لیے انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ مجھ پر اعتماد کرنے کے لیے میں ہمیشہ انکا مشکور رہوں گا۔ ان کی کمی بہت محسوس ہوگی۔
پھول اور کانٹے باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس فلم نے اجے دیوگن کو ایکشن ہیرو کے طور پر متعارف کروایا اور ان کے تین دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر کی بنیاد رکھی۔ اجے دیوگن کو اس فلم پر 1991 کا فلم فیئر بہترین مرد ڈیبیو ایوارڈ بھی ملا تھا۔
فلم میں مدھو، ارونا ایرانی، جگدیپ اور امریش پوری نے بھی اہم کردار ادا کیے تھے۔ اجے دیوگن نے بعد میں ککو کوہلی کے ساتھ 1994 کی فلم سہاگ میں بھی کام کیا۔ ککو کوہلی کی ہدایت کاری میں بننے والی آخری فلم وہ تیرا نام تھا، جو 2004 میں ریلیز ہوئی۔
ککو کوہلی کو طبیعت خراب ہونے پر 24 اگست کو ممبئی کے کوکیلا بین دھیر بھائی امبانی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ان پر شدید دل کا دورہ پڑا اور وہ چل بسے تھے۔ انکے پسماندگان میں اہلیہ اداکارہ ارونا ایرانی، پہلی اہلیہ ریتا کوہلی اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
ان کی آخری رسومات بدھ کو ممبئی ادا کی گئیں۔ اس موقع پر بالی ووڈ کی متعدد شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں روہت شیٹی، کترینہ کیف، وکی کوشل، شام کوشل اور اشوک پنڈت شامل تھے۔