بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے مشکل دور کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈان 3‘ سے علیحدگی کے بعد کیریئر میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔
رنویر سنگھ نے ریلائنس کی دستاویزی فلم ’پروہ ہے تو پریوار ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میری کچھ فلموں کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہنے کے باوجود مجھے ملنے والی حمایت نے میرے لیے نئی فلم پر کام کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔
اداکار نے کہا کہ ’دھریندر‘ بنانا اور اسے مکمل کرنا آسان نہیں تھا، اس دوران کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
رنویر سنگھ نے کہا کہ پوری محنت اور یقین کے ساتھ کسی ایسے منصوبے پر کام کرنا، جس کے کامیاب ہونے کی صورت میں نئی راہیں کھلنے کی امید ہو، ایک بڑا فیصلہ تھا۔
انہوں نے کسی فلم کا نام لیے بغیر اعتراف کیا کہ ’دھریندر‘ سے قبل میرے کیریئر میں بھی ناکامیوں اور مشکلات کا حصہ رہا ہے۔
’ڈان 3‘ تنازع کیا ہے؟
رنویر سنگھ اور فرحان اختر کے درمیان ’ڈان 3‘ کے حوالے سے تنازع بھی گزشتہ کچھ عرصے سے خبروں میں رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فرحان اختر اور ان کے پروڈکشن ہاؤس ایکسل انٹرٹینمنٹ نے الزام عائد کیا کہ رنویر سنگھ نے بیرونِ ملک شوٹنگ شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل فلم سے اچانک علیحدگی اختیار کی، جس سے پروڈکشن کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق فرحان اختر نے رنویر سنگھ سے 45 کروڑ بھارتی روپے کے ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انڈسٹری میں باضابطہ شکایت بھی درج کرائی۔
دعویٰ کیا گیا کہ رنویر کی رضامندی کی بنیاد پر فلم کی پری پروڈکشن، لاجسٹکس اور تقریباً 120 افراد پر مشتمل عملے کے انتظامات پر رقم خرچ کی جا چکی تھی۔
دوسری جانب رنویر سنگھ نے اس معاملے پر عوامی سطح پر خاموشی اختیار کیے رکھی تھی۔