سوشل میڈیا پر ڈاکٹر نظر آنے والا ہر شخص ڈاکٹر نہیں اور صحت سے متعلق ہر دعویٰ بھی درست نہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق سوشل میڈیا پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار ڈاکٹرز، ہیلرز اور ویل نیس انفلوئنسرز سپلیمنٹس کی تشہیر کر رہے ہیں، جن میں سے بیشتر انفلوئنسرز گمراہ کن دعووں سے منافع کماتے پائے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ڈاکٹر نظر آنے والا ہر شخص، ڈاکٹر نہیں، اسی طرح وزن کم کرنا ہو، مسلز بنانا ہوں، خوبصورتی کے مشورے یا کسی بیماری کا علاج ہو سوشل میڈیا پر ہر دعویٰ بھِی قابلِ یقین نہیں۔
نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر سیکڑوں ایسے اے آئی سے تیار کردہ ڈاکٹرز، ہیلرز اور ویلنس انفلوئنسرز سامنے آئے ہیں، جو سپلیمنٹس کی تشہیر کرتے ہوئے صحت سے متعلق گمراہ کن دعوے کر رہے ہیں اور ان سے منافع حاصل کرتے ہیں۔
ان ویڈیوز میں مصنوعی چہرے، آوازیں اور جعلی طبی ماحول استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بعض اشتہارات وزن کم کرنے، درد اور دیگر بیماریوں کے علاج تک کے دعوے کرتے ہیں۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ اشتہارات خاص طور پر بڑی عمر کی خواتین جیسے صارفین کو نشانہ بناتے ہیں، ماہرین کے لیے اصل خدشہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف جعلی خبریں نہیں، جعلی طبی ماہرین بھی بنا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر سفید کوٹ اور پُراعتماد لہجے سے متاثر ہونے کے بجائے، صحت سے متعلق ہر دعوے کی مستند طبی ذرائع سے تصدیق کریں۔