امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور جاپانی جج ٹوموکو اکانے پر پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے سینئر ٹرائل وکیل عبداللّٰہ پر پابندی عائد کی ہے۔
سینئر ٹرائل وکیل اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے وارنٹِ گرفتاری کی درخواست کرنے والی استغاثہ کی ٹیم میں شامل تھے۔
دوسری جانب جاپان نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر ٹرائل وکیل پر امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا ہے۔
جاپانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے جاپان مستقل طور پر عالمی فوجداری عدالت کی حمایت کرتا ہے تاکہ وہ عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بننے والے سنگین ترین جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چلانے اور انہیں سزا دلانے کی کوششیں جاری رکھ سکے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جاتے ہیں اور امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی بھی محدود ہو جاتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان تازہ پابندیوں پر آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے کا فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ماضی میں انہوں نے امریکی پابندیوں اور دباؤ کے خلاف عدالت کی آزادی کا دفاع کیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکا عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے۔