روس نے برطانیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کے بحران میں جان بوجھ کر کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ ماسکو کا یہ مؤقف برطانوی ساختہ ڈرونز کے روس کے اندر فوجی اور صنعتی اہداف پر حملوں میں استعمال ہونے کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے۔
برطانیہ میں روسی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ برطانوی اقدامات اسے یوکرین جنگ سے متعلق ’’خونی جرائم اور دہشت گرد حملوں‘‘ میں شریک بناتے ہیں۔ روسی سفارتخانے نے خبردار کیا کہ لندن کے اقدامات کے نتائج برطانیہ کو بھگتنا ہوں گے اور تنازع میں اس کی شمولیت جتنی زیادہ گہری ہوگی، اسے اتنی ہی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع نے روسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ ’’کندھے سے کندھا ملا کر‘‘ کھڑا ہے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق حکومت روسی جارحیت کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے اور یوکرین کو روسی حملے کے خلاف دفاع کے لیے ضروری سازوسامان فراہم کرتی رہے گی۔
روسی فوجی و صنعتی تنصیبات نشانے پر
رپورٹ کے مطابق دو الگ الگ برطانوی کمپنیوں کے تیار کردہ ڈرونز روس کے اندر فوجی اور صنعتی اہداف کے خلاف حملوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ ان اہداف میں تیل صاف کرنے والی ریفائنریاں اور آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کے گودام اور لاجسٹکس مراکز بھی شامل ہیں۔
یوکرین کا دعویٰ ہے کہ وائلڈ بیریز کے روس میں موجود 10 بڑے لاجسٹکس مراکز میں سے 7 کو حملوں کے نتیجے میں ’’غیر فعال‘‘ کر دیا گیا ہے۔ ایک فوجی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ان کارروائیوں میں برطانوی ساختہ ڈرونز استعمال کیے گئے، جبکہ ان حملوں سے ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ 35 ارب پاؤنڈ سے زیادہ لگایا گیا ہے۔
روسی علاقے پر ڈرون حملوں میں اضافہ
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی پرزوں اور تکنیکی ترتیب سے لیس ڈرونز روسی سرزمین پر حملوں میں استعمال کیے گئے، جن میں روستوف کے علاقے میں ایک ایندھن کے ذخیرے کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب یوکرین نے حالیہ دنوں میں روس کے خلاف ڈرون حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔ روسی حکام کے مطابق ہفتے کی رات یوکرین کی جانب سے تقریباً 822 ڈرونز روس کی طرف بھیجے گئے، جن میں تقریباً 600 کا رخ ماسکو کی جانب تھا۔ روسی حکام نے اسے دارالحکومت پر حالیہ برسوں کے بڑے ترین ڈرون حملوں میں سے ایک قرار دیا۔
برطانیہ کی جانب سے مزید ڈرونز کی فراہمی
برطانوی وزارتِ دفاع نے رواں سال اپریل میں اعلان کیا تھا کہ برطانیہ یوکرین کو ہزاروں ڈرونز فراہم کرے گا، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز بھی شامل ہیں۔ یہ پیکیج یوکرین کے لیے برطانیہ کی جانب سے اب تک کے بڑے ترین فوجی امدادی پیکیجز میں شمار کیا جاتا ہے۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ شروع کیا تھا اور اس وقت یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر اس کا کنٹرول ہے۔ تازہ ترین واقعات کے بعد ماسکو اور لندن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔