پاکستانی اداکارہ زارا نور عباس نے بچوں کے خلاف پیش آنے والے ہولناک جرائم پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ملک کا نظامِ انصاف بچوں کو تحفظ فراہم کرنے اور جرائم میں ملوث افراد کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے؟
اداکارہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک سخت لہجے پر مبنی اسٹوری شیئر کی ہے، جس میں انہوں نے معاشرے میں بار بار ہونے والے ریپ، قتل کے واقعات اور ان کے ذمے داروں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور لکھا ہے کہ شاید یہ ہمارے لیے بدترین وقت ہے۔
زارا نور عباس نے سوال اٹھایا ہے کہ معاشرے میں بار بار ریپ اور قتل جیسے جرائم کیوں ہو رہے ہیں؟ اور ایسے واقعات میں ذمے دار افراد کو سزا ملنے کی مثالیں کیوں نظر نہیں آتیں جو مستقبل میں دوسروں کے لیے عبرت بن سکیں؟
اداکارہ نے والدین کے لیے موجودہ صورتِ حال کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے سوال کیا لیکن اب ہم کیا کریں؟ ہم اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھیں؟ کیا ہمیں قانون اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہیے؟
زارا نے نظامِ انصاف پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ قانون تو ایسا برتاؤ کر رہا ہے جیسے وہ چھٹی جماعت کا طالب علم ہو۔
اداکارہ کی پوسٹ میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بعض افسوسناک واقعات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا۔
انہوں نے لکھا کہ آئیے دوبارہ قبر کھودتے ہیں کیونکہ پہلی بار ہم صحیح نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
ان کا یہ جملہ بظاہر میر رضا علی کیس کی جانب اشارہ تھا، جہاں ان کی موت کی ابتدائی تحقیقات اور پوسٹ مارٹم کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
زارا نور عباس نے اس معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے تحقیقاتی عمل اور ادارہ جاتی جواب دہی سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
اداکارہ نے کراچی میں 18 ماہ کی بچی سے زیادتی کے واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس میں ملزم کی عمر 17 سال بتائی گئی تھی۔
اس حوالے سے زارا نے لکھا کہ 17 سالہ ریپسٹ کو ذہنی ادارے میں بھیج دیتے ہیں کیونکہ یہ نابالغ رویہ ہے۔
زارا نور عباس کے بیان نے اس وسیع تر بحث کو بھی اجاگر کیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث نابالغ ملزمان کے حقوق، متاثرین کو انصاف کی فراہمی، جرائم کی روک تھام اور معاشرے کے تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر جذباتی سوال کیا کہ میں اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھوں؟
زارا نور عباس پاکستان کی معروف اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور وہ متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں، وہ اس سے قبل بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف سماجی معاملات اور عوامی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔