سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے پروسٹیٹ کینسر کے ہڈیوں تک پھیلنے اور شدید تکلیف کا انکشاف ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔
ہنٹر بائیڈن نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کینسر ہڈیوں اور جسم کے دیگر حصوں تک پھیل چکا ہے، بیماری انتہائی تکلیف دہ اور کئی حوالوں سے کمزور کردینے والی ہے۔
والد کی صحت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہنٹر بائیڈن جذباتی ہوگئے۔
ان کا کہنا ہے کہ والد کی حالت دیکھنا انتہائی مشکل اور افسوسناک ہے، تاہم وہ اب بھی متحرک ہیں اور امریکا کے لیے پرعزم ہیں۔
83 سالہ جو بائیڈن کے ترجمان نے ہنٹر بائیڈن کے انٹرویو پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
جو بائیڈن نے مئی 2025ء میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے تقریباً چار ماہ بعد انکشاف کیا تھا کہ انہیں پروسٹیٹ کینسر کی جارحانہ قسم کی تشخیص ہوئی ہے، جو اس وقت تک ہڈیوں تک پھیل چکا تھا۔
بعد ازاں بائیڈن نے ریڈی ایشن اور ہارمون تھراپی کروائی، گزشتہ ماہ اپنی آئندہ یادداشتوں کے اعلان کے موقع پر جو بائیڈن نے کہا کہ ان کا علاج ’بہت اچھا‘ چل رہا ہے۔
جو بائیڈن کی صحت ان کے دورِ صدارت میں بھی مسلسل توجہ کا مرکز رہی، بالخصوص جون 2024ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صدارتی مباحثے میں ان کی خراب کارکردگی کے بعد۔
بعد ازاں ڈیموکریٹس کی جانب سے دباؤ کے بعد بائیڈن صدارتی دوڑ سے دستبردار ہوگئے اور نائب صدر کملا ہیرس ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار بنیں، نومبر کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کملا ہیرس کو شکست دی۔
جو بائیڈن نے 2021ء سے 2025ء تک امریکی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 2020ء میں صدر منتخب ہونے کے وقت وہ امریکا کے صدر منتخب ہونے والے سب سے زیادہ عمر کے شخص تھے، اس سے قبل وہ 2009ء سے 2017ء تک براک اوباما کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔
بیماری کے باوجود جو بائیڈن نے عوامی تقریبات میں شرکت جاری رکھی ہے۔ جون میں انہوں نے شکاگو میں براک اوباما کی صدارتی لائبریری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی۔
جو بائیڈن کی صدارتی یادداشتیں 17 نومبر کو جاری ہونے والی ہیں۔