برطانیہ کی معروف کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر جیسن آرڈے نے تحقیقی مقالوں کی چوری کے الزام کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ پروفیسر آرڈے کے فوری استعفے کے باوجود ان کی تقرری اور بطور پروفیسر خدمات سے متعلق تحقیقات جاری رہیں گی۔
انتظامیہ کے مطابق تحقیقات کے نتائج کو سینئر تعلیمی عہدوں پر تقرری کے طریقہ کار اور تحقیق میں بد دیانتی سے متعلق پالیسی کا جائزہ لینے میں استعمال کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کے کئی سینئر اساتذہ تقرری کے پورے نظام کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ لیور پول جان مورز یونیورسٹی اس سے قبل پروفیسر جیسن آرڈے کو ان الزامات سے بری قرار دے چکی ہے۔
پروفیسر کے خلاف مہم برطانوی اخبار میں ان کے 2015 کے پی ایچ ڈی مقالے کا تجزیہ شائع ہونے کے بعد سامنے آئی، جس میں اخبار کے مطابق ایسے کئی اقتباسات کی نشاندہی کی گئی جو ایک دوسرے محقق کے پہلے سے موجود مقالے سے بالکل یا تقریباً ایک جیسے تھے۔
رپورٹس کے مطابق 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر بننے والے جیسن آرڈے پر الزام ہے کہ انہوں نے لیورپول جان مورز یونیورسٹی سے مکمل کیے گئے اپنے پی ایچ ڈی مقالے اور دیگر تحقیقی کاموں میں چوری شدہ مواد شامل کیا۔
میڈیا میں ان کے بعض دیگر دعووں جن میں چھ دن میں 600 میل دوڑنے اور خیرات کے لیے 55 لاکھ پاؤنڈ جمع کرنے کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔