مانچسٹر میں نرس کی زیرِ نگرانی ایک خصوصی کلینک کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد ٹرانسپلانٹ کے بعد کی نگہداشت کو انفرادی ضروریات کے مطابق بنانا اور علاج کے نتائج میں پائی جانے والی عدم مساوات کو دور کرنا ہے۔
گردے کے تقریباً نصف ٹرانسپلانٹس 10 سال کے اندر ناکام ہو جاتے ہیں لیکن مانچسٹر میں کچھ بدل رہا ہے جو لوگوں کی زندگیوں پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے, بہت سے مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کے بعد اہم خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن مانچسٹر میں ایک نیا کلینک ان خطرات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے مریضوں کے لیے گردے کی پیوند کاری زندگی کا دوسرا موقع فراہم کرتی ہے اگرچہ زندہ عطیہ دہندہ سے ٹرانسپلانٹ 25 سال تک چل سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 40 فیصد تک گردے کی پیوند کاری ایک دہائی کے اندر ناکام ہو جاتی ہے، جس سے مریضوں کو ڈائیلیسز یا دوسرے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پڑ جاتی ہے مگر اب مانچسٹر میں ایک نیا کلینک شروع کیا گیا ہے تاکہ گردے کی پیوند کاری میں ایسے مریضوں کی مدد کی جا سکے جو اپنے عطیہ کردہ عضو کو کھونے کے خطر ات سے دوچار ہیں۔
مانچسٹر رائل انفرمری میں قائم اس کلینک کا مقصد محروم کمیونٹیز اور دوسرے گروپوں کے مریضوں کو زیادہ ذاتی نوعیت کی پیروی کی دیکھ بھال کی پیشکش کر کے طویل مدتی نتائج کو بہتر بنانا ہے، جنہیں ٹرانسپلانٹ کی ناکامی کے زیادہ خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کلینک کا آغاز مانچسٹر یونیورسٹی این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والی ایک معروف کمپنی کے ساتھ شراکت داری سے کیا ہے۔