امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی ایک نئی مگر نسبتاً محدود کوشش کے تحت دو نئے صدارتی احکامات (ایگزیکٹو آرڈرز) پر دستخط کر دیے۔
یہ اقدام ایک بار پھر امریکی آئین کی پیدائشی شہریت سے متعلق شق کو چیلنج کرتا ہے، حالانکہ سپریم کورٹ اس سے قبل ٹرمپ کی اسی نوعیت کی ایک کوشش کو مسترد کر چکی ہے۔
پیدائشی شہریت کو محدود کرنا ریپبلکن صدر کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پالیسی کا اہم حصہ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس خاص طور پر اس عمل کو نشانہ بنا رہا ہے جسے وہ برتھ ٹورزم قرار دیتا ہے، یعنی ایسے معاملات جن میں حاملہ غیر ملکی خواتین امریکا جا کر بچے کو جنم دیتی ہیں تاکہ اسے امریکی شہریت حاصل ہو سکے۔
30 جون کو سپریم کورٹ کی جانب سے قانونی دھچکا لگنے کے بعد ٹرمپ نے کانگریس سے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم گزشتہ روز انہوں نے قانون سازی کے بجائے نئے ایگزیکٹو آرڈرز جاری کیے۔
صدارتی احکامات حکومتی پالیسی طے کرتے ہیں، لیکن ان کی قانونی حیثیت کانگریس سے منظور شدہ قوانین جیسی نہیں ہوتی۔
سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے پہلے ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا، اس حکم نامے میں ایسے تارکینِ وطن کے بچوں کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو امریکا میں غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نیا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے دائرہ کار سے باہر ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پیدائشی شہریت سے متعلق تاریخی اور محدود استثناؤں کی نئی تشریح کرتے ہوئے ان افراد کے دائرے کو وسیع کیا جا رہا ہے جو شہریت کے اہل نہیں ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے اوول آفس میں منعقدہ تقریب کے دوران کہا کہ اس حکم نامے پر دستخط کے ساتھ ہی برتھ ٹورزم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔