کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے تاجر میر علی رضا کی قبر کشائی سے متعلق ان کے اہلِ خانہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت جاری کردی۔
عدالت نے سماعت کے بعد قبر کشائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے بعد ازاں سناتے ہوئے درخواست منظور کرلی۔
عدالت نے حکم دیا کہ جتنی جلدی ممکن ہو قبر کشائی کا عمل مکمل کیا جائے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس قبر کشائی پر اعتراض نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ عمل پولیس سرجن اور میڈیکل لیگل آفیسر (ایم ایل او) کی نگرانی میں انجام دیا جانا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی ہے، ان کے مطابق نہ تو کوئی ایکسرے کیا گیا اور نہ ہی موت کی اصل وجہ کا تعین کیا گیا، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ محض اندازوں کی بنیاد پر تیار کر دی گئی۔
دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کو نوٹس دیے بغیر حکم کیسے جاری کیا جا سکتا ہے، اس پر سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پراسیکیوشن کو قبر کشائی پر کوئی اعتراض نہیں اور یہ ایک انسانی جان کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کیا گیا تو مزید تاخیر ہوگی۔
بعد ازاں عدالت نے پراسیکیوشن کی جانب سے نو آبجیکشن سامنے آنے پر درخواست منظور کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور قبر کشائی کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔