امریکا کے ریپبلکن سینیٹر جم بینکس کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے جلد اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق نہ کیا تو صدر ٹرمپ ایران پر حملوں کا دوبارہ آغاز کریں گے۔
امریکی میڈیا ’فوکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے جم بینکس نے کہا کہ اگر ایرانی مذاکرات کی میز پر نہیں آتے اور فوری طور پر معاہدہ نہیں کرتے تو صدر ٹرمپ دوبارہ ان پر شدید بمباری کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اب بھی تنازع کے پُرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں اور حملوں کو مؤخر کرنے کا فیصلہ تہران کو مذاکرات کی جانب واپس آنے کا ایک اور موقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا، نہ کہ یہ کسی کمزوری یا پسپائی کی علامت ہے۔
جم بینکس نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کے اندر اختلافات موجود ہیں، جہاں ایک جانب شدت پسند فوجی حلقے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومتی قیادت کے بعض عناصر امریکی فوجی دباؤ کے باعث معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں مختلف دھڑوں سے نمٹ رہا ہے، ایک طرف شدت پسند فوجی قیادت ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کا حکمراں طبقہ ہے، جو میرے خیال میں واقعی معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ شدید دباؤ میں آ چکا ہے، وہ جانتے ہیں کہ امریکی فوج کس حد تک کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔