امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر اتفاق کے بعد غزہ میں امن کے لیے تیار کیے گئے 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو گیا، اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے انخلاء کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے غزہ کے لیے میرے 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تقریباً 9 ماہ بعد سامنے آیا ہے جبکہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار تھے۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے ساتھ اسرائیلی فوج بتدریج غزہ سے نکلے گی جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس اور نئی فلسطینی پولیس غزہ کی سیکیورٹی سنبھالے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ غزہ میں نئی فلسطینی عبوری حکومت قائم کی جائے گی تاکہ عوامی خدمات اور انتظامی امور چلائے جا سکیں۔
20 نکاتی منصوبے کے اہم نکات کیا ہیں؟
- غزہ کو غیر مسلح اور شدت پسندی سے پاک علاقہ بنایا جائے گا۔
- جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج مرحلہ وار انخلاء کرے گی۔
- معاہدے کے 72 گھنٹوں کے اندر تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔
- یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل 250 عمر قید کے قیدیوں اور 1700 فلسطینی زیرِ حراست افراد کو رہا کرے گا۔
- حماس کے وہ ارکان جو ہتھیار چھوڑ کر پرامن زندگی اختیار کریں گے انہیں عام معافی دی جائے گی جبکہ غزہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
- غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی، اسپتالوں، پانی، بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیرِ نو شروع کی جائے گی۔
- غزہ کی عبوری حکومت ماہر فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہو گی جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی ’امن بورڈ‘ کرے گا جس کی سربراہی ٹرمپ کریں گے۔
- غزہ کی تعمیر نو، سرمایہ کاری، روزگار اور خصوصی اقتصادی زون کے قیام کے لیے عالمی شراکت داروں کی مدد حاصل کی جائے گی۔
- کسی بھی فلسطینی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا تاہم جو جانا چاہے گا اسے واپسی کے حق کے ساتھ اجازت ہو گی۔
- غزہ میں حماس یا کسی بھی مسلح گروہ کو مستقبل میں حکومت یا سیکیورٹی کا کوئی کردار نہیں دیا جائے گا جبکہ تمام عسکری ڈھانچہ ختم کیا جائے گا۔
- امریکا، عرب ممالک اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات کی جائے گی جو فلسطینی پولیس کی تربیت بھی کرے گی۔
- منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مستقبل میں سیاسی عمل شروع کرنے اور اسرائیل و فلسطینی قیادت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی بھی تجویز شامل ہے۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 73000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔