بالی ووڈ اداکار عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں مبینہ شرکت پر بمبئی ہائی کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔
عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اداکار نے کہا ہے کہ میرا احتجاج میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ میں صرف یہ دیکھنے کے لیے احتجاجی مقام پر گیا تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ نہ تو میں نے کوئی مطالبہ کیا اور نہ ہی احتجاجی تحریک کا حصہ بننے کا ارادہ تھا۔
اداکار نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ مجھے بھارت اور اس کے آئین سے بے حد محبت ہے اور میں اس کا احترام کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اپنی 42 سالہ زندگی میں سے 40 سال بھارت میں گزارے ہیں اور ہمیشہ ملک کے قوانین کا احترام کیا ہے۔
اداکار کی قانونی ٹیم نے بمبئی ہائی کورٹ میں عمران خان کی جانب سے دستخط شدہ غیر مشروط معافی نامہ اور آئندہ احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی بھی جمع کرائی ہے۔
عمران خان نے عدالت کو یقین دلایا ہے کہ میں مستقبل میں کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گا اور نہ ہی براہِ راست یا بالواسطہ کسی دوسرے شخص کو ایسے مظاہروں میں شرکت کے لیے اکسانے یا متاثر کرنے کی کوشش کروں گا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ میں نے ہمیشہ ملکی قوانین کی پاسداری کی ہے اور اپنے پیشہ ورانہ کام، ٹیکس کی ادائیگی اور روزگار کے مواقع پیدا کر کے ملک میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
اداکار کے مطابق میری زندگی، پیشہ ورانہ وابستگی اور تعلقات سب اسی ملک سے وابستہ ہیں۔
واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو ممبئی کے آگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔
مظاہرین نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
احتجاج کے دوران ممبئی پولیس نے اداکار عمران خان کو مختصر وقت کے لیے حراست میں بھی لیا تھا، یہ مظاہرہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی احتجاجی تحریک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کیا گیا تھا۔