بھارتی فلم ساز اشوک پنڈت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرنے پر معروف اداکار نصیرالدین شاہ کو شدید تنقید اور تعصب کا نشانہ بنایا ہے۔
69 سالہ فلم ساز اشوک پنڈت نے اداکار کو نفسیاتی مسائل کا شکار قرار دیتے ہوئے انہیں عادتاً بدزبانی کرنے والا شخص قرار دے دیا۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اشوک پنڈت نے کہا ہے کہ نصیرالدین شاہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان پر کوئی حیرت نہیں، کیونکہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل نامناسب رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اشوک پنڈت کے مطابق اداکار کی گفتگو اور کیمرے کے سامنے ان کے تاثرات ان کی مایوسی اور ذہنی انتشار کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ نصیرالدین شاہ جتنا اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، اتنا ہی ان کی شخصیت بے نقاب ہو رہی ہے۔
یہ تنقید نصیرالدین شاہ کی جانب سے بھارتی نوجوانوں کی جرأت کو سراہنے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قائم مرکزی حکومت پر تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اس سے قبل منگل کے روز نصیرالدین شاہ نے فیس بک پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے خود کو فخر سے ’دماغی نکسل‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ نہیں معلوم کہ حکومت کے حامی مجھے مزید کن القابات سے نوازیں گے، تاہم حکومت سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ملک کے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی، تعلیمی نظام کی تباہی اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جائیں گے؟
دوسری جانب طلبہ کی قیادت میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز 12 اکتوبر بروز پیر ہوا تھا، جو تاحال جاری ہے۔