سوشل میڈیا پر آج کل ایک ’فیرٹِن فیس‘ ٹرینڈ بہت زیادہ مقبول ہو رہا ہے اور اس ٹرینڈ میں آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں، چہرے کی زردی، بالوں کے جھڑنے اور ہونٹوں کے کناروں پر دراڑوں کو جسم میں آئرن کی کمی کی علامات قرار دیا جا رہا ہے۔
’فیرٹِن فیس‘ ٹرینڈ کی مقبولیت سے ہر کسی کے دماغ میں یہ سوال ضرور آیا ہو گا کہ کیا صرف چہرہ دیکھ کر آئرن کی کمی کی تشخیص کی جا سکتی ہے؟
اب ماہرینِ صحت نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف چہرے پر سیاہ حلقے دیکھ کر آئرن کی کمی کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔
فیرٹِن کیا ہے؟
فیرٹِن ایک پروٹین ہے جو جسم میں آئرن ذخیرہ کرتا ہے اور آئرن خون میں ہیموگلوبن بنانے کے لیے ضروری ہے، جو خون کے سرخ خلیات کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب جسم میں آئرن کے ذخائر کم ہو جائیں تو بعض افراد میں آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی، یعنی آئرن ڈیفیشنسی انیمیا ہو سکتی ہے۔
آئرن کی کمی سے چہرے اور جسم میں کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں؟
1- چہرے کا زرد ہونا
آئرن کی کمی سے خون میں ہیموگلوبن کم ہونے کی صورت میں جلد معمول سے زیادہ زرد دکھائی دے سکتی ہے، تاہم صرف جلد کا رنگ دیکھ کر اس کی وجہ معلوم نہیں کی جا سکتی۔
2– بالوں کا جھڑنا
آئرن کی کمی بعض افراد میں بالوں کے جھڑنے سے وابستہ ہو سکتی ہے، لیکن ذہنی دباؤ، تھائیرائیڈ کے مسائل، ہارمونز میں تبدیلی اور غذائی کمی بھی اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
3- ناخنوں کا کمزور ہونا
آئرن کی کمی سے ناخن بھربھرے یا کمزور ہو سکتے ہیں اور بعض شدید صورتوں میں ناخن چمچ کی طرح اندر کی جانب دھنس بھی سکتے ہیں۔
4- ہونٹوں کے کناروں پر دراڑیں
منہ کے کونوں پر زخم یا دراڑیں آئرن سمیت بعض غذائی اجزاء کی کمی سے وابستہ ہو سکتی ہیں لیکن انفیکشن اور جلد کی جلن بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔
5- آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے جسم میں آئرن کی کمی کی وجہ سے بھی پڑ سکتے ہیں لیکن ان کا تعلق جینیاتی عوامل، عمر، الرجی، نیند کی کمی اور جلد کی ساخت سے بھی ہو سکتا ہے، اس لیے سیاہ حلقوں کو آئرن کی کمی کا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
آئرن کی کمی کی اصل علامات کیا ہیں؟
ماہرینِ صحت کے مطابق آئرن کی کمی کی اہم علامات میں مسلسل تھکاوٹ، توانائی کی کمی، سانس پھولنا، دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونا، سر درد، چکر آنا اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری شامل ہو سکتی ہے۔
بعض افراد میں آئرن کی کمی کی وجہ سے بالوں کا جھڑنا، جلد کی زردی اور ناخنوں کی کمزوری جیسی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ علامات ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتیں اور بعض افراد میں آئرن کے ذخائر کم ہونے کے باوجود ابتداء میں واضح علامات سامنے نہیں آتیں۔
تشخیص کیلئے خون کا ٹیسٹ ضروری
ماہرین کے مطابق جسم میں آئرن کا لیول جاننے کے لیے فیرٹِن ٹیسٹ اور ضرورت کے مطابق مکمل خون کا ٹیسٹ (CBC) کروایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف آئینے میں چہرہ دیکھ کر یا سوشل میڈیا پر موجود علامات کی فہرست سے کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر آئرن سپلیمنٹس استعمال کرنا بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ جسم میں ضرورت سے زیادہ آئرن جمع ہونے سے بھی صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسلسل تھکاوٹ، سانس پھولنے یا غیر معمولی طور پر بال جھڑنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو طبی مشورہ اور مناسب ٹیسٹ کروانا بہتر ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔