کراچی میں بین الاقوامی اسکواش ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیجنڈ جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کو کھیل کو بہتر بنانے اور پاکستان کا شاندار ماضی واپس لانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
6 بار ورلڈ اوپن اور 10 مرتبہ برٹش اوپن جیتنے والے اسکواش میں پاکستان کے عظیم کھلاڑی کا کہنا تھا کہ آج عالمی درجہ بندی کے ابتدائی 25 کھلاڑیوں میں افسوس کوئی پاکستانی کھلاڑی موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس ملک میں اسکواش کا راج ہوا کرتا تھا، آج اس ملک میں اسکواش پر راج کرنے والے کھلاڑی عالمی سطح پر بہت پیچھے ہیں۔
لیجنڈ جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسکواش کا ٹیلنٹ بھی موجود ہے، اور اسکواش کے بین الاقوامی ٹورنامنٹ بھی تواتر کے ساتھ منعقد ہو رہے ہیں۔
جہانگیر خان نے کہا کہ ان مشکلات میں بھی اسکواش میں اسپانسر آرہے ہیں، بڑی بات ہے۔ فیڈریشن کو چاہیے کہ اکیڈمی لگائے، کھلاڑیوں کو آگے آنے کے لیے بہتر راستے فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی سطح پر صرف ایک ٹورنامنٹ چیف آف ایئر اسٹاف کی میزبانی کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملات کو دیکھے، لیکن افسوس وہاں صرف وہ لوگ بیٹھے ہیں جو ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ اس طرح پاکستان اسکواش فیڈریشن آگے نہیں بڑھ سکتی۔
لیجنڈ جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن میں احتساب کا عمل ضروری ہے، صرف کوچز تبدیل کرنے سے معاملات بہتر نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسکواش کی ایک تاریخ ہے، ہمارے پاس عظیم کھلاڑیوں سے مشورے لینے کے ساتھ عملی طور پر ان کا اسکواش کی بہتری کےلیے آگے آنا بہت ضروری ہے۔
جہانگیر خان نے مزید کہا کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن میں اس کھیل کو سمجھنے والے اور پاکستان اسکواش کے وسیع تر مفاد میں کام کرنے والوں کو آگے لانا بہت ضروری ہے۔