معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر دیا گیا لیکن پھر بھی انہیں بچایا نہیں جا سکا اور وہ 75 سال کی عمر میں چل بسے۔
اس واقعے نے ایک اہم سوال دوبارہ اُٹھا دیا ہے کہ سی پی آر کیا ہے اور یہ طریقہ کار کتنی دیر تک مؤثر رہتا ہے؟
سی پی آر (کارڈیو پلمونری ری سسیٹیشن) ایک ہنگامی طبی طریقہ ہے جو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی شخص کا دل مؤثر طریقے سے دھڑکنا بند کر دے اور وہ معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو۔
اس طریقۂ کار میں سینے پر دباؤ ڈال کر خون کی گردش اور دماغ سمیت اہم اعضاء تک آکسیجن کی فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سی پی آر کتنی دیر تک دیا جاتا ہے؟
سی پی آر کے لیے کوئی مقررہ دورانیہ نہیں ہے، عام طور پر طبی ماہرین اس طریقۂ کار کو اس وقت تک جاری رکھتے ہیں جب تک مریض کے دل کی دھڑکن اور سانس بحال نہ ہو جائے یا پھر طبی ٹیم مریض کی حالت دیکھ کر بحالی کی کوششیں روکنے کا فیصلہ نہ کرے۔
کچھ حالات میں دیر تک سی پی آر جاری رکھنا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، بحالی کے امکانات مریض کی عمر، دل کی دھڑکن کی نوعیت، سی پی آر کتنی جلدی دینا شروع کیا گیا اور دل کی دھڑکن رُکنے کی وجہ سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتے ہیں۔
امریکی تحقیق کے مطابق ابتدائی چند منٹوں میں سی پی آر دینا شروع کرنے سے زندہ بچنے اور دماغی افعال محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کیونکہ دل کی دھڑکن رُکنے کے بعد ہر ایک منٹ بہت اہم ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔