فرانس نے اپنی جوہری دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے جدید ترین آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل ایم 51.3 کا پہلی بار تجربہ کیا ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق میزائل کو برٹنی کے ساحل کے قریب جوہری آبدوز لے ویژی لان سے داغا گیا، میزائل میں جوہری وار ہیڈ یا کوئی جنگی مواد موجود نہیں تھا اور تجربہ بین الاقوامی ذمے داریوں کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے کیا گیا۔
دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق M51.3 میزائل کی صحیح رینج تاحال خفیہ رکھی گئی ہے تاہم عوامی اندازوں کے مطابق یہ میزائل 9,000 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ نئے ایم 51.3 میں مزید طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت شامل کی گئی ہے۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یورپ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے کالینن گراڈ کے حوالے سے انتباہات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے میزائل تجربے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور اس کا پیغام جہاں پہنچنا چاہیے وہاں واضح طور پر پہنچ گیا ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے پاس دنیا کا چوتھا سب سے بڑا جوہری ذخیرہ موجود ہے جس میں تقریباً 290 جوہری ہتھیار شامل ہیں۔
اس کی جوہری صلاحیت 4 بیلسٹک میزائل آبدوزوں کے علاوہ طیاروں سے داغے جانے والے ہتھیاروں پر بھی مشتمل ہے۔
دوسری جانب نیٹو نے واضح کیا ہے کہ اس کی فوجی مشقیں یا سرگرمیاں روسی سر زمین کے لیے خطرہ نہیں ہیں، یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یورپی ممالک کو آنے والے مہینوں میں روس کی جانب سے ممکنہ ہائبرڈ خطرات میں اضافے سے خبردار کیا گیا ہے۔
ماسکو نے ایسے حملوں کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا کسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور وہ دیگر ممالک کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔