امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے فنڈز سے تیار کردہ ایک نیا ٹیلی ویژن اشتہار جاری کرنے پر وائٹ ہاؤس شدید عوامی اور سیاسی تنقید کی زد میں آ گیا۔
دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے چند ہفتے قبل نشر کیے جانے والے اس اشتہار کے آخر میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اس کے اخراجات امریکی حکومت نے ادا کیے ہیں۔
اتوار کے روز فوکس نیٹ ورک پر کھیل کے 2 اہم مقابلوں (این ایف ایل) کے دوران نشر ہونے والے اس اشتہار میں صدر ٹرمپ کو ایک راہداری میں چلتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس دوران ویڈیو کے ساتھ صدر ٹرمپ کی 2023ء کی ایک تقریر چلتی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں یہ آخری جنگ ہے، ہم کمیونسٹس، مارکسٹس اور فاشسٹس کو باہر نکال پھینکیں گے، ہم اپنے ملک سے نفرت کرنے والے بیمار سیاسی طبقے کو ختم کر دیں گے، ہم جعلی خبریں دینے والے میڈیا کو شکست دیں گے اور امریکا کو ان ولن سے ہمیشہ کے لیے آزاد کروائیں گے۔
یہ اشتہار ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024ء کی صدارتی مہم کی ایک ویڈیو سے انتہائی مشابہت رکھتا ہے تاہم موجودہ اشتہار سے مہم کا لوگو اور ٹیکسٹ نمبر حذف کر دیا گیا ہے۔
اشتہارات کی نگرانی کرنے والے ادارے ایڈ امپیکٹ کے مطابق امریکی حکومت کے فنڈز سے تیار کیا جانے والا یہ ٹرمپ کا حالیہ دنوں میں تیسرا اشتہار ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان اشتہارات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابی مہم کے لیے نہیں بلکہ عوامی آ گاہی اور معلومات کے لیے بنائے گئے اشتہارات ہیں، ان اشتہارات کا مقصد قوم پرستی اور حب الوطنی کو فروغ دینا ہے۔
وائٹ ہاؤس اس مہم کو پہلے ہی ’تعلیمی اور واضح طور پر حب الوطنی پر مبنی‘ قرار دے چکا ہے اور اس کا مقصد قومی فخر کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’کامنز کاز‘ نے سوال اٹھایا ہے کہ سرکاری فنڈز کا اس طرح استعمال حکومت کے پروپیگنڈا مخالف قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے؟