وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون ہے، ہم بات کس سے کریں، کون انچارج ہے؟ بیرسٹر گوہر فارغ ہیں، پارٹی میں ان کی کوئی نہیں سنتا۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ اسلحہ، ڈنڈے اور غلیلوں سے لیس آنا یہ پرامن کب تھے، پی ٹی آئی والوں کو آج تک پرامن احتجاج کرتے میں نے نہیں دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج کی بات کرتے ہیں، ابھی کوہاٹ کے شہدا کی قبر کی مٹی نہیں سوکھی، پی ٹی آئی حکومت کو تو چاہیے کہ امن کے قیام تک یہ ہنگو اور کوہاٹ سے باہر نہ نکلے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اس احتجاج کا کیا جواز ہے، آج خیبر پختونخوا میں ٹوٹی سڑکوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، سیاست ہوتی رہے گی مگر خدارا اپنے صوبے کو سنبھالیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے پرامن احتجاج پر یقین ہی نہیں رکھتے، آج کوہاٹ میں تاجروں نے کہا کہ ان کو احتجاج سے روکیں تمام کاروبار رک جاتا ہے۔ ان کے احتجاج سے جو تاجروں اور صنعتوں کو نقصان ہوگا وہ کون پورا کرےگا، عدالت کا حکم ہے کہ سڑکوں کو بند نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج میں کبھی 126 دن کا دھرنا دے کر شہر بند نہیں کیا گیا، ہمارے احتجاج میں کبھی دھرنا دے کر چین کے صدر کا دورہ نہیں روکا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ان کو دھرنا کے لیے پاک سیکریٹریٹ کو بلاک نہیں کرنے دیا جائے گا، اپنے صوبے میں احتجاج کریں، یہ پشاور کو بند کریں، یہ کیا بات ہوئی آپ آتے ہیں اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ پلاننگ سہیل آفریدی اور آئی ایس ایف کر رہی ہے پوری دنیا کو پتا ہے، پی ٹی آئی میں یہ جو دو تین بندے کہتے ہیں بات کرلیں، بتایا جائے کہ ان کے پلے ہے کیا؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان سے مذاکرات کا کوئی جواز اور فائدہ نہیں، ان کی زبان پر اعتبار نہیں، گوہر صاحب بہت اچھی باتیں کرتے ہیں بس وہ صرف باتیں کرتے ہیں ان کے پلے کچھ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنید اکبر کا سومنات والا بیان، یہ کون لوگ ہیں کہاں سے سوچتے ہیں یہ لوگ؟ جب ایسا واقعہ ہوا، جس کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی ہو اس کا جواب دیا گیا، جواب میں افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔