نوجوانوں کی جانب سے کیے جانے والے جرائم میں کمی لانے کے لیے حکومت یوتھ جسٹس سسٹم میں اصلاحات کرنے جارہی ہے، مجوزہ اصلاحات کے تحت والدین کو اپنے بچوں کے جرائم کی صورت میں بینیفٹس سے محروم کیا جا سکتا ہے، جبکہ انتہائی سنگین معاملات میں انہیں قید کی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوتھ جسٹس منسٹر جیک رچرڈ نے کہا ہے کہ والدین کو متناسب انداز میں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ معاشرے کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
جسٹس منسٹر کا یہ بیان مئی میں پیرنٹنگ آرڈرز کو مضبوط اور وسیع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، موجودہ نظام کے تحت ایسے احکامات والدین یا سرپرستوں کو اپنے بچوں کے رویے سے نمٹنے کے لیے کونسلنگ سیشنز میں شرکت پر مجبور کر سکتے ہیں، جبکہ حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جیک رچرڈ کے مطابق والدین کو قید کی سزا صرف انتہائی سنگین معاملات میں دی جا سکے گی، جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ جج کی صوابدید پر ہوگا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ والدین کو سزا دینے کے بجائے انہیں رضاکارانہ طور پر اس عمل میں شامل کرنا زیادہ مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔
الائنس فار یوتھ جسٹس کے چیف ایگزیکٹو جیس مولن نے سوال اٹھایا کہ اگر والدین کو جیل بھیج دیا جائے گا تو وہ اپنے بچوں کو ضروری مدد کیسے فراہم کر سکیں گے۔