سعودی حکومت نے اپنے فلیگ شپ منصوبے نیوم میں شامل چند متنازع اور مہنگے منصوبوں کے بعض حصوں کو ختم کرنے کے لیے آئندہ 5 سال میں 60 ارب ریال، یعنی 16 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض منسوخ کیے گئے منصوبوں کے ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدے ختم کرنے کے لیے جرمانے اور دیگر ادائیگیاں کی جائیں گی جس کے باعث منصوبے ختم کرنے پر ہی اربوں ڈالرز خرچ ہوں گے۔
نیوم میں پہاڑوں پر برفانی تفریحی مقام، بحیرۂ احمر کے ساحلی تفریحی مراکز اور صنعتی زون سمیت متعدد بڑے منصوبے شامل ہیں جن کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت اور دیگر شعبوں کی جانب لے جانا ہے۔
منصوبے کا مرکزی حصہ 170 کلو میٹر طویل اور 2 کلو میٹر چوڑا شہر ’دی لائن‘ تھا جسے صحرا میں سیدھی لکیر کی شکل میں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، منصوبے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ریل کے ذریعے سفر کی سہولت بھی شامل تھی۔
’دی لائن‘ کی ابتدائی لاگت تقریباً 500 ارب ڈالرز بتائی گئی تھی تاہم منصوبے کو ابتداء ہی سے شہری منصوبہ بندی کے ماہرین نے غیر حقیقی اور ناقابلِ برداشت قرار دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اب تک نیوم پر 50 ارب ڈالرز سے زیادہ خرچ کر چکا ہے جبکہ بعض دیگر رپورٹس میں اب تک ہونے والے اخراجات 64 ارب ڈالرز تک بتائے گئے ہیں۔
رواں سال جنوری میں فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑھتی ہوئی لاگت اور تاخیر کے باعث نیوم منصوبے کو نمایاں طور پر محدود کیا جا رہا ہے اور حکام اصل منصوبے کے مقابلے میں بہت چھوٹے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔
نیوم کے نئے سربراہ ایمن المدیفر نے گزشتہ سال ذمے داری سنبھالنے کے بعد منصوبے کی ترجیحات کا جامع جائزہ شروع کیا جس کے بعد ملازمتوں میں کمی، انتظامی تنظیمِ نو اور مختلف منصوبوں پر نظرِ ثانی کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق اپریل 2025ء میں نیوم کے فعال تعمیراتی عملے میں 35 فیصد کمی کی گئی تھی جبکہ جولائی 2025ء تک 1000 سے زائد ملازمین کو اخراجات کم کرنے اور نگرانی بہتر بنانے کے لیے منصوبے کے مقام سے ریاض منتقل کیا گیا۔
نیوم کے سابق سربراہ نذمی النصر نے نومبر 2024ء میں اچانک عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
سعودی عرب نے 16 ستمبر 2025ء کو ’دی لائن‘ کی تعمیر باضابطہ طور پر روک کر منصوبے کے مستقبل کا تزویراتی (Strategic) جائزہ شروع کیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نیوم کے بعض منصوبوں کی تعمیر رکنے کے بعد سعودی عرب اب معاہدے ختم کرنے اور ان منصوبوں سے نکلنے پر مزید اربوں ڈالرز خرچ کر رہا ہے جبکہ کئی بڑے تعمیراتی ڈھانچے صحرا میں ادھورے پڑے ہیں۔
نیوم منصوبے کے حوالے سے ایک داخلی جائزے میں انتظامی سطح پر غیر حقیقی توقعات، منصوبے کی مشکلات اور اخراجات کے بارے میں اعلیٰ قیادت تک مکمل معلومات نہ پہنچنے کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، اس عمل میں مشاورتی ادارے میک کِنزی اینڈ کمپنی کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
سعودی عرب نے اب نیوم کے مستقبل کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا مراکز کی جانب موڑنا شروع کر دیا ہے، فروری 2026ء میں ڈیٹا وولٹ کے ساتھ 5 ارب ڈالرز کی شراکت داری کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت نیوم کے اوکساغون علاقے میں مصنوعی ذہانت کے لیے بڑا ڈیٹا مرکز تعمیر کیا جائے گا۔
سعودی قیادت کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آ چکا ہے کہ اگر عوامی مفاد کا تقاضہ ہوا تو کسی بھی پروگرام یا ہدف کو منسوخ یا بنیادی طور پر تبدیل کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
نیوم کا واحد حصہ جو باقاعدہ طور پر کھولا گیا وہ سندالہ کا پرتعیش کشتی رانی مرکز ہے جس کا اکتوبر 2024ء میں افتتاح کیا گیا، یہ منصوبہ بھی مقررہ وقت سے 3 سال تاخیر سے مکمل ہوا اور اس کی لاگت ابتدائی اندازے سے تقریباً 3 گنا زیادہ رہی۔
کردستان 24 میں شائع کی گئی ایک خصوصی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ نیوم کی ناکامی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030ء کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ یہ منصوبہ تیل پر انحصار کم کرنے اور سیاحت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ تھا۔
نیوم کے لیے ابتدائی طور پر 9 ملین افراد کو 170 کلو میٹر طویل شہر میں آباد کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا تاہم منصوبے کے بڑے حصے اب معطل، محدود یا منسوخ کیے جا رہے ہیں۔