امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو بعض ’منفی قوتیں‘ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں تاہم امریکا کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی عالمی برتری برقرار رکھنی چاہیے۔
آئرلینڈ میں اپنے گالف کورس پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے آگے ہے اور دنیا کا سب سے جدید ملک ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ امریکا اپنی یہ برتری برقرار رکھے کیونکہ ’جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے ہو گا، وہی جیتے گا۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات پر امریکا میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی کمپنی کے 2 محققین نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی اے آئی مستقبل قریب میں انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
اینتھروپک کمپنی کے سربراہ ڈیریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو محدود کرنے کے لیے 3 نکاتی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماڈلز کی تیاری روکنے کے بجائے اِنہیں محفوظ بنانے اور خطرات کا بہتر انداز میں جائزہ لینے کے لیے ڈویلپرز کو مناسب وقت دینا ضروری ہے۔
اموڈی نے ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا جن میں مصنوعی ذہانت کے نظام نے غیر مجاز سائبر کارروائیاں کیں اور اپنی کارکردگی جانچنے والے نظام کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی دوسری مدت میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی بھرپور حمایت کی ہے جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کے رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے مختلف پروگراموں کی حمایت کی ہے۔