برطانیہ میں ایک سابق خاتون ٹیچر کو 16 سالہ طالب علم کے جنسی استحصال کے جرم میں قصور وار قرار دیا گیا ہے۔
30 سالہ فزیکل ایجوکیشن ٹیچر برونوِن جیمز نے ہیمپشائر اور ولٹ شائر کے اسکولوں میں 2 طالبات سے متعلق جرائم کا اعتراف کیا، جبکہ ایک طالب علم سے متعلق الزامات میں جیوری نے انہیں مجرم قرار دیا۔
کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے ان طلبہ کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے سامنے آکر شکایات درج کروائیں۔
ونچسٹر کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ برونوِن جیمز نے ساؤتھمپٹن کے ایک اسکول میں کلاس کے دوران 16 سالہ طالب علم سے مبینہ طور پر نامناسب انداز میں میل جول بڑھایا۔
پراسیکیوٹر ایڈورڈ کلور نے عدالت کو بتایا کہ ایک دوسرے طالب علم کی جانب سے جیمز اور شکایت کنندہ کے درمیان ہونے والے مبینہ پیغامات ایک استاد کو دکھانے کے بعد اسکول انتظامیہ کو واقعے کا علم ہوا۔
ان کے بقول جیمز نے نہ صرف غیر پیشہ ورانہ اور حد سے زیادہ بے تکلف رویہ اختیار کیا بلکہ اپنی حدود کو بھی نظر انداز کیا اور اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک کم عمر طالب علم کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔
مقدمے کی سماعت سے قبل جیمز نے 2 طالبات سے متعلق الزامات کا اعتراف بھی کیا تھا۔ ان میں سے ایک اسی ساؤتھمپٹن اسکول کی طالبہ تھی جہاں مذکورہ لڑکا زیر تعلیم تھا، جبکہ دوسری ولٹ شائر کے ایک اسکول میں پڑھتی تھی جہاں جیمز نے بھی تدریس کے فرائض انجام دیے تھے۔
عدالت میں قانونی بحث کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جیمز نے اپنے تدریسی کیریئر کے آغاز میں ویسٹ سسیکس کے نجی اسکول سی فورڈ کالج میں تدریس کے دوران ایک طالب علم کو اپنا ذاتی موبائل نمبر دینے پر وارننگ بھی حاصل کی تھی۔