پروٹین پاؤڈر اب صرف باڈی بلڈنگ کرنے والوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام افراد بھی اسے ورزش، وزن کم کرنے یا روزمرہ خوراک میں پروٹین کی کمی پوری کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پروٹین پاؤڈر کا روزانہ استعمال صحت کے لیے مفید ہے مگر اس سے متعلق پائی جانے والی کئی عام غلط فہمیوں کو دور اور احتیاط سے استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے۔
1۔ کیا پروٹین پاؤڈر صحت مند افراد کے گردے خراب کرتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند افراد میں تجویز کردہ مقدار کے مطابق پروٹین لینے سے گردوں کو نقصان پہنچنے کے شواہد نہیں ملتے تاہم گردوں کے پہلے سے مریض افراد کو پروٹین کی مقدار ڈاکٹر کے مشورے سے طے کرنی چاہیے۔
2۔ کیا پروٹین پاؤڈر صرف کھلاڑیوں کے لیے ہے؟
پروٹین پاؤڈر صرف کھلاڑیوں کے لیے نہیں، پروٹین جسم کے بافتوں کی مرمت، قوتِ مدافعت، ہارمونز اور دیگر اہم افعال کے لیے ضروری ہے، عمر رسیدہ افراد، بیماری سے صحت یاب ہونے والوں اور خوراک سے مطلوبہ پروٹین حاصل نہ کرنے والے افراد بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں۔
3۔ کیا پروٹین لینے سے خواتین کا جسم بہت زیادہ بھاری ہو جاتا ہے؟
صرف پروٹین پاؤڈر لینے سے خواتین کا جسم بھاری نہیں ہو جاتا، نمایاں پٹھے بنانے کے لیے باقاعدہ سخت ورزش اور دیگر عوامل بھی ضروری ہوتے ہیں۔
پروٹین مناسب مقدار میں پٹھوں کی مضبوطی اور جسمانی صحت میں مدد دیتا ہے۔
4۔ کیا تمام پروٹین پاؤڈر ایک جیسے ہوتے ہیں؟
نہیں! دودھ سے حاصل ہونے والے مختلف پروٹین پاؤڈرز کے علاوہ مٹر، چاول اور دیگر نباتاتی ذرائع سے بنے پاؤڈرز بھی دستیاب ہیں۔
ان میں پروٹین، چکنائی، دودھ کی شکر اور دیگر اجزاء کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے خریدتے وقت اجزاء ضرور دیکھیں۔
5۔ کیا ورزش کے 30 منٹ کے اندر پروٹین لینا ضروری ہے؟
ماہرین کے مطابق ورزش کے فوراً بعد پروٹین نہ لینے سے فوائد ختم نہیں ہو جاتے، مجموعی روزانہ پروٹین کی مقدار زیادہ اہم ہے، ورزش سے 1 سے 2 گھنٹے پہلے یا بعد میں پروٹین لینا کافی ہو سکتا ہے۔
6۔ کیا پروٹین پاؤڈر جگر فیل کرسکتا ہے؟
صحت مند جگر رکھنے والے افراد میں مناسب مقدار میں پروٹین استعمال کرنے سے جگر کو نقصان پہنچنے کے شواہد نہیں ملے ہیں تاہم جگر کے مریض کو خوراک اور سپلیمنٹس ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کرنے چاہئیں، غیر معیاری مصنوعات میں نقصان دہ یا غیر قانونی اجزاء شامل ہو سکتے ہیں۔
7۔ کیا پروٹین پاؤڈر مکمل خوراک کی جگہ لے سکتا ہے؟
ماہرین کا جواب ہے نہیں، انڈے، مرغی، مچھلی، دالیں، پنیر اور سویا بین جیسی قدرتی غذائیں پروٹین کے ساتھ فائبر، وٹامنز، معدنیات اور صحت مند چکنائیاں بھی فراہم کرتی ہیں۔
پروٹین پاؤڈر صرف خوراک میں موجود کمی پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
8۔ کیا جتنا زیادہ پروٹین لیا جائے، اتنی تیزی سے پٹھے بنتے ہیں؟
ضرورت سے زیادہ پروٹین لینے سے پٹھے تیزی سے نہیں بنتے، جسم ایک وقت میں محدود مقدار میں پروٹین کو پٹھوں کی تعمیر کے لیے استعمال کرتا ہے، اضافی پروٹین جسم کی ضرورت سے زیادہ توانائی کی صورت میں چربی میں تبدیل ہو سکتا ہے یا جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔
9۔ کیا نباتاتی پروٹین پاؤڈر غیر مؤثر ہوتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے، مٹر، چاول اور دیگر نباتاتی پروٹین کو ملا کر ایسے پاؤڈر تیار کیے جاتے ہیں جن میں ضروری امائنو ایسڈز کی مناسب مقدار ہو سکتی ہے، یہ دودھ سے حساس افراد کے لیے بھی متبادل ہو سکتے ہیں۔
10۔ کیا تمام پروٹین پاؤڈرز میں خطرناک کیمیکل ہوتے ہیں؟
تمام مصنوعات کو ایک جیسا نہیں سمجھا جا سکتا، غیر معیاری پاؤڈرز میں بھاری دھاتوں یا دیگر نقصان دہ آلودگیوں کا خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے ایسی مصنوعات کا انتخاب کرنا چاہیے جن کے معیار اور پاکیزگی کی آزاد اداروں سے جانچ ہوئی ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند افراد متوازن غذا کے ساتھ پروٹین پاؤڈر کو ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں لیکن اسے قدرتی غذا کا مکمل متبادل نہیں بنانا چاہیے۔
خریداری سے پہلے اجزاء اور اضافی شکر کی مقدار ضرور دیکھیں جبکہ کسی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔