شامی وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا، امریکی ثالثی میں مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
اسعد حسن الشیبانی نے امریکی نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے سے پہلے اور بعد میں ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کیا، ابو الظہور ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کا کوئی جواز نہیں۔
شامی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکا کو بتایا کہ اسرائیل کے ارادوں پر اعتماد نہیں، اسرائیل کی پالیسی شام اور خطے کے استحکام میں معاون نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج اور دیگر ممالک سے رابطے کیے۔
اسعد حسن الشیبانی نے کہا کہ سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے اسرائیل سے معاہدہ ممکن ہے، اسرائیل کو شام کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 18 اگست کو شام کے صوبہ ادلب میں ابو الظہور فوجی اڈے پر فضائی حملے کیے تھے۔
گزشتہ روز پاکستان اور ترکیہ نے بھی شام کے شہر ادلب میں ابوالظہور فوجی ایئر بیس پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کی تھی۔