وزن میں نمایاں کمی کو اکثر صحت کے لیے فائدہ مند تبدیلی سمجھا جاتا ہے، لیکن محققین نے خبردار کیا ہے کہ بعض صورتوں میں اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔
جرمنی میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جو افراد اپنے جسمانی وزن کا 10 فیصد سے زیادہ وزن کم کر لیتے ہیں، ان میں آنتوں کے کینسر سے موت کا خطرہ دوسرے افراد کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ پایا گیا۔
اس بیماری میں مبتلا ایسے مریض جو وزن کم کرتے ہیں، ان میں کینسر کے دوبارہ ہونے کا امکان بھی 33 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، جرمن کینسر ریسرچ سینٹر کے سائنس دانوں نے واضح کیا کہ ان نتائج کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وزن بڑھانا آنتوں کے کینسر سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
بلکہ ان کے مطابق، کینسر کی تشخیص سے پہلے کے مہینوں یا برسوں میں نمایاں وزن کم ہونا اس بات کی ایک کم معروف علامت ہو سکتی ہے کہ بیماری جسم کو متاثر کر رہی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
آنتوں کا کینسر دنیا میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے۔ توقع ہے کہ 2040 تک اس کے نئے کیسز کی تعداد 32 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ صرف برطانیہ میں یہ بیماری ہر سال تقریباً 17,700 افراد کی جان لے لیتی ہے۔
ایسی وجوہات جو ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہیں کی بنا پر نوجوان افراد میں آنتوں کے کینسر کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آدھے سے زیادہ کیسز خوراک اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ذریعے روکے جا سکتے ہیں۔
یہ بات پہلے ہی معلوم ہے کہ موٹاپا کم از کم 13 اقسام کے کینسر کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے، جن میں آنتوں کا کینسر بھی شامل ہے۔ تاہم، گزشتہ کافی تحقیق میں ایک رجحان کی نشاندہی کی گئی ہے جسے موٹاپے کا تضاد کہا جاتا ہے۔
اس سے مراد یہ مشاہدہ ہے کہ بعض اوقات آنتوں کے کینسر میں مبتلا موٹے یا زیادہ وزن والے مریض، صحت مند وزن رکھنے والے مریضوں کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ وزن رکھنے والے افراد کینسر اور اس کے سخت علاج کے جسمانی اثرات کو بہتر طور پر برداشت کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
موٹاپے کے شکار افراد کا اپنے جنرل پریکٹیشنر سے بھی زیادہ رابطہ رہتا ہے، کیونکہ انھیں مختلف بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر کینسر کی تشخیص پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کا طویل عرصے سے یہ مؤقف ہے کہ جسے موٹاپے کا تضاد کہا جاتا ہے، وہ غلط تاثر بھی ہو سکتا ہے۔
صحت مند وزن والے افراد کے گروپ میں ایسے لوگوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہو جاتی ہے جنہوں نے کینسر کی وجہ سے پہلے ہی خاصا وزن کم کر لیا ہوتا ہے اور جن کا علاج یا بیماری کا نتیجہ نسبتاً خراب ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے زیادہ وزن والے مریض نسبتاً زیادہ صحت مند نظر آ سکتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن نامی جریدے میں شائع ہوئی اور اس میں محققین نے آنتوں کے کینسر میں مبتلا 5,521 افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جن کا تقریباً پانچ سال تک مشاہدہ کیا گیا۔