بھارت کے ایک انجینئر نے کیریئر کے ابتدا میں ملنے والی والی اپنی 20 ہزار ماہانہ تنخواہ کو موجودہ وقت میں ملنے والے ایک کروڑ کے پیکیج سے بہتر قرار دے دیا جس کے بعد اس یہ فلسفہ وائرل ہوگیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایڈ اٹ پر اپنے 14 سالہ کیریئر کا سفر شیئر کرتے ہوئے ایک سینئر ٹیک پروفیشنل نے بتایا کہ اس نے 2012 میں ایک عام کالج سے گریجویشن کے بعد 14,300 روپے کی معمولی نوکری سے شروعات کی۔ وقت کے ساتھ اس کی ترقی کا سفر 20 ہزار، 32 ہزار، 13 لاکھ اور بالآخر 1 کروڑ 5 لاکھ روپے سالانہ تک جا پہنچا۔
اس وقت سب چونک گئے جب اس شخص نے کہا کہ اسے کروڑوں کا پیکیج بھی وہ خوشی نہ دے سکا جو ابتدائی دنوں میں ملی تھی۔
بھارتی شہر بینگلور سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے کہا، ’میری زندگی کی سب سے بڑی اور سچی خوشی کروڑ پتی بننا نہیں تھی۔ سب سے بڑی خوشی مجھے اس وقت ملی تھی جب میری تنخواہ 14,300 سے بڑھ کر 20,000 روپے ماہانہ ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا، ’اس 20 ہزار نے میری زندگی بدل دی تھی۔ میں نے سرکاری بسوں پر دھکے کھانا چھوڑ دیا تھا اور اپنی خوابوں کی بائیک خریدی تھی۔
ٹیکنالوجی پروفیشنل کے مطابق 25 سے 30 لاکھ کی آمدن کے بعد اضافی پیسہ آپ کے طرزِ زندگی کو نہیں بلکہ صرف آپ کی انویسٹمنٹ کو بڑھاتا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ زیادہ تنخواہ کے ساتھ زیادہ دباؤ و تناؤ آتا ہے۔ مالی طور پر تو میں خوش ہوں لیکن جذباتی طور پر اب کسی اور کے لیے کام کرنے میں کوئی مزہ نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ اب میں بڑے پیکیج کے پیچھے نہیں بھاگ رہا، بلکہ میں ’آزادی‘ کی تلاش میں ہوں۔ اگر میں اپنا کوئی چھوٹا بزنس بنا کر مہینے کا 1 لاکھ روپے بھی کما لوں تو وہ اس ایک کروڑ کی نوکری سے ہزار گنا بہتر ہوگا۔‘