نئی اینیمیٹڈ فلم عینک والا جن کے ہدایت کار فرحان خان نے اصل ٹی وی سیریز کے تخلیق کار حفیظ طاہر کی جانب سے عائد کردہ حقوقِ ملکیت کے دعوے مسترد کر دیے۔
انہوں نے حفیظ طاہر کے حقوقِ ملکیت کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقبول کلاسک ڈرامے کے تمام حقوق پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے پاس ہیں۔
فرحان خان نے نجی میڈیا (دی کرنٹ) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عینک والا جن کے حقوق سے متعلق لگائے گئے الزامات جھوٹے اور ہتک آمیز ہیں، سابق ہدایت کار کے بیانات ان کی ذاتی رائے ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رازداری کی شرائط کے باعث سرکاری ٹی وی کے ساتھ ہونے والا باضابطہ معاہدہ عوام کے سامنے نہیں لا سکتا، تاہم سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ پلیٹ فارمز پر فلم کی باقاعدہ تشہیر کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عینک والا جن کی سرکاری تشہیری مہم اور پوسٹرز پر سرکاری ٹی وی کا لوگو موجود ہے، یہ ایسے حقائق ہیں جن کی عوامی سطح پر تصدیق کی جا سکتی ہے اور اس حوالے سے سرکاری ٹی وی کے سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز دیکھے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عینک والا جن کے اصل تخلیق کار حفیظ طاہر نے نئی اینیمیٹڈ فلم کے فلم ساز پر ان کا نام اور تصور بغیر اجازت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
حفیظ طاہر کا کہنا تھا کہ 24 جولائی کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی یہ فلم میری معلومات یا شمولیت کے بغیر تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے اس عمل کو دن دہاڑے ڈکیتی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ فلم سازوں نے ڈرامے کے اصل کرداروں، خصوصاً مرکزی کردار نستور جن کی شکل و صورت بھی تبدیل کر دی ہے۔
یاد رہے کہ عینک والا جن کی اصل سیریز 1993ء سے 1996ء تک سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہوئی تھی اور اسے پاکستان کے مقبول ترین بچوں کے پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔