کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی والدہ انیتا دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ نامعلوم افراد نے میرے بیٹے کو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شامل ہونے یا بصورتِ دیگر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی ہیں۔
ایک میراٹھی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انیتا دیپکے نے بتایا کہ ابھیجیت دیپکے کی جانب سے سیاسی پلیٹ فارم قائم کیے جانے کے بعد ہمارے خاندان کو بھی دھمکایا گیا۔
انیتا دیپکے کے مطابق دھمکیوں کے باعث ہمارے خاندان کو چھترپتی سمبھاجی نگر میں واقع اپنا گھر چھوڑنا پڑا اور 16 روز تک کونکن کے علاقے میں ایک رشتے دار کے گھر روپوش رہنا پڑا۔
ابھیجیت دیپکے اس وقت امریکا کے شہر بوسٹن میں مقیم تھے جب انہیں ایک ویڈیو کے ذریعے دھمکی موصول ہوئی، جس میں سیاسی طور پر بی جے پی سے وابستگی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
انیتا دیپکے نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ابھیجیت نے کہا تھا کہ میں ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں، تاہم اس کو اپنے خاندان کی سلامتی کی فکر تھی کیونکہ وہ اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے عادی نہیں تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد ایک ڈیجیٹل تحریک کے نتیجے میں پڑی، جو بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت کے اس بیان کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں انہوں نے بھارت کے بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ قرار دیا تھا۔
یہ آن لائن طنزیہ مہم ایک بڑی نوجوانوں کی تحریک میں تبدیل ہو گئی، جس نے امتحانات میں بے ضابطگیوں اور نیٹ پیپر لیکس کے خلاف آواز اٹھائی۔
بعد ازاں سیاسی احتجاج نے نئی دہلی میں انتظامی امور کو شدید متاثر کیا۔
ابھجیت دیپکے نے سماجی کارکن سونم وانگ چک کے ہمراہ جنتر منتر پر 36 روز تک احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھا اور بالآخر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔