برطانیہ میں دل کی سنگین بیماری آبسٹریکٹو ہائپر ٹرافک کارڈیو مایوپیتھی (ایچ سی ایم) میں مبتلا ہزاروں مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس نے بیک وقت نئی دوا افیکامٹن، جسے MYQORZO بھی کہا جاتا ہے، کی منظوری اور سفارش جاری کر دی ہے۔
اس فیصلے کے بعد انگلینڈ میں تقریباً 6 ہزار 600 مریض اس نئی دوا سے مستفید ہو سکیں گے۔
افیکامٹن روزانہ ایک بار کھائی جانے والی گولی ہے جو دل کے پٹھوں کو ضرورت سے زیادہ سکڑنے سے روکتی ہے، جس سے دل کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، خون کی روانی میں رکاوٹ کم ہوتی ہے اور مریضوں کی علامات میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
طبی آزمائشوں کے مطابق یہ دوا مریضوں کی جسمانی سرگرمی کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے، سانس پھولنے، تھکن، سینے کے درد، چکر آنے اور دل کی بے ترتیب دھڑکن جیسی علامات کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دوا کی افادیت موجودہ منظور شدہ دوا ماواکامٹن کے برابر ہے، جبکہ اس کے استعمال کے دوران مریضوں کو دل کے الٹراساؤنڈ (ایکوکارڈیوگرام) نسبتاً کم کروانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نائس کے مطابق افیکامٹن کو کم لاگت کے تقابلی جائزے کے بعد سفارش کے لیے منظور کیا گیا، جبکہ ایم ایچ آر اے اور نائس کے درمیان قریبی تعاون کے باعث اس دوا کی منظوری معمول کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ممکن ہوئی۔
نائس کی ڈائریکٹر برائے ادویات ہیلن نائٹ نے کہا ہے کہ یہ دوا دل کی اس پیچیدہ بیماری کے علاج میں ایک اہم پیش رفت ہے اور مریضوں کے لیے نئی امید ثابت ہو گی۔
دوسری جانب ایم ایچ آر اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جولین بیچ نے کہا ہے کہ یہ مشترکہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ مؤثر اور محفوظ ادویات مریضوں تک جلد پہنچانے کے لیے اداروں کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے۔
کارڈیو مایوپیتھی یو کے کی چیف ایگزیکٹو کیتھرین میک انٹوش نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دوا کی دستیابی سے مریضوں کے پاس علاج کے مزید مؤثر اختیارات موجود ہوں گے اور ان کی زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔
این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق نائس کی حتمی رہنمائی جاری ہونے کے 30 دن کے اندر یہ دوا مریضوں کے لیے دستیاب ہو گی، جبکہ دوا ساز کمپنی نے این ایچ ایس کے لیے رعایتی قیمت پر دوا فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔