پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ای ایف ایف پروگرام کے چوتھے جائزے کے مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے آئی ایم ایف مشن کی ابتدائی ملاقات ہوئی ہے، پاکستان میں موجود آئی ایم ایف مشن کی قیادت آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف مشن پاکستان کے ای ایف ایف پروگرام کے چوتھے جائزے کے ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے کے لیے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد آج وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام سے ملاقات کرے گا، جس میں نئی آٹو پالیسی پر بریفنگ دی جائے گی، وفد کو الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر دی جانے والی ٹیکس مراعات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کر دیا ہے، جبکہ نئی آٹو پالیسی میں ٹیکس کم کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں، گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے ٹیکس کم رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
آئی ایم ایف وفد آج ایف بی آر حکام سے بھی مذاکرات کرے گا، جس میں نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور ڈیجیٹل انوائسنگ نظام پر بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے 15 ہزار 263 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کے اقدامات اور پہلی سہ ماہی کی ٹیکس وصولیوں پر بھی بریفنگ دی جائے گی، صنعتی شعبے میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے پروڈکشن لائنز کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ یقینی بنانے پر بھی زور دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم پر بھی آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ دی جائے گی۔
نئی آٹو پالیسی کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت سے نئی گاڑیوں کی فروخت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے ٹیکس کم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔