بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں بیوی کا سر قلم کر کے اس کا سر فریج میں رکھنے کے الزام میں گرفتار 30 سالہ رامانوج گوسوامی پولیس گاڑی سے چھلانگ لگانے کے بعد ہلاک ہو گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پیر کی صبح گوہاٹی میڈیکل کالج و اسپتال میں طبی معائنے کے بعد رامانوج گوسوامی کو واپس تھانے لے جایا جا رہا تھا کہ ایک پہاڑی کے قریب اس نے اچانک پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔
ملزم گہری کھائی میں گر کر شدید زخمی ہوا، پولیس نے اسے فوری طور پر گوہاٹی میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ رامانوج گوسوامی کو 3 ستمبر کو اپنی 25 سالہ اہلیہ ریا تالوکدار کو گوہاٹی کے فلیٹ میں مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو اپنی اہلیہ پر بے وفائی کا شبہ تھا، پڑوسیوں کی جانب سے فلیٹ سے بدبو آنے کی شکایت کے بعد پولیس نے کارروائی کی اور فریج میں رکھے کالے پلاسٹک کے تھیلے سے مقتولہ کا کٹا ہوا سر اور انگلیاں برآمد کیں۔
ملزم کے خلاف قتل اور شواہد مٹانے کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے، اس نے 6 ستمبر کو پولیس کے سامنے خود کو پیش کیا تھا اور ملزم 7 روزہ پولیس ریمانڈ پر تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 8 ستمبر کو پولیس ملزم کو جائے وقوع پر لے کر گئی تھی جہاں مبینہ طور پر اس نے قتل پر کوئی پچھتاوا اور افسوس کا اظہار نہیں کیا، ملزم نے دھمکی دی تھی کہ اگر مجھے جیل سے رہا کیا گیا تو میں اس شخص کو بھی قتل کردوں گا جس کے ساتھ میری اہلیہ کے تعلقات تھے۔