جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سینیٹر مولانا عطا الحق نے کہا ہے کہ پمز اسپتال میں 14 بچوں کے جھلسنے کا واقعہ محض حادثہ نہیں، یہ مجرمانہ غفلت ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں مولانا عطا الحق نے حکومت پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست کردی۔
انہوں نے کہا کہ 14 بچوں کے جھلسنے کے باوجود آج تک مقدمہ درج نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے، پمز میں آتشزدگی میں بچوں کی اموات کا ذمےدار کون ہے؟
جے یو آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ پمز واقعے کا مقدمہ فوری درج کیا جائے، ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر غفلت حکومت اور متعلقہ اداروں کی ہے، تو ان پر بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے، معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معافی نہیں ملنی چاہیے۔
مولانا عطا الحق نے یہ بھی کہا کہ پمز واقعے کو دبانے کی کوئی کوشش قابل قبول نہیں، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں، واقعے کے ذمہ دار خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 14 بچوں کے جھلسنے کا واقعہ محض حادثہ نہیں، اگر غفلت ثابت ہو تو یہ مجرمانہ غفلت ہے، حکومت متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کو انصاف فراہم کرنے میں مزید تاخیر نہ کرے۔
جے یو آئی سینیٹر نے کہا کہ پمز انتظامیہ اور متعلقہ حکام واقعہ کی ذمہ داری واضح کریں، قوم کو حقائق بتائے جائیں، مقدمہ اندراج میں تاخیر سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں، حکومت وضاحت دے۔
ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کےساتھ ہونے والے ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے، ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔