مصنوعی ذہانت (AI) نے طبی شعبے میں خودکار تشخیص کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
بریسٹ اسکریننگ کمپنی وارا کو سی ای سرٹیفکیشن مل گئی ہے، جس کے بعد اس کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام بعض میموگرامز کا ریڈیولوجسٹ کی مدد کے بغیر جائزہ لے سکے گا۔
برلن میں قائم کمپنی نے اعلان کیا کہ اس کے خودکار ٹرائیج سسٹم کو کلاس IIb CE سرٹیفکیشن مل گئی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو جوناس مف کے مطابق یہ منظوری اس نظام کو پہلا بریسٹ اسکریننگ اے آئی بناتی ہے جسے واضح طور پر نارمل قرار دیے جانے والے معائنے کی آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت ملی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی بریسٹ کینسر کی اسکریننگ میں ریڈیولوجسٹ کے کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، موجودہ نظام میں زیادہ تر میموگرامز نارمل ہونے کے باوجود انہیں ریڈیولوجسٹ 2 مرتبہ دیکھتے ہیں۔
نئے طریقہ کار کے تحت اے آئی ان کیسز کی نشاندہی کرے گا جو نارمل نظر آئیں گے، جبکہ دیگر تمام معائنے انسانی ریڈیولوجسٹس کو تفصیلی جائزے کے لیے بھیجے جائیں گے۔
کمپنی کے مطابق اس طریقہ کار سے ماہرین کو معمول کے کم خطرے والے اسکینز کے بجائے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک کیسز پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے، اے آئی کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے ایک مانیٹرنگ سسٹم بھی تیار کیا گیا ہے۔
وارا کا اے آئی نظام 2019ء سے جرمنی کے قومی بریسٹ اسکریننگ پروگرام میں استعمال ہورہا ہے، اس ٹیکنالوجی کا جائزہ PRAIM نامی تحقیق میں لیا گیا، جو 2025ء میں نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی، تحقیق میں 12 اسکریننگ مراکز پر 4 لاکھ 61 ہزار 818 خواتین کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اے آئی کی معاونت سے ہونے والی اسکریننگ میں ہر 1 ہزار خواتین میں کینسر کی نشاندہی ہوئی، جبکہ روایتی ڈبل ریڈنگ کے ذریعے یہ شرح 5.7 فی ہزار تھی، اس طرح کینسر کی تشخیص میں 17.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔