عام طور پر ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے برعکس، لوگ رات کا کھانا اپنی سہولت، کام کے اوقات یا دیر سے گھر پہنچنے کی بنیاد پر کھاتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ڈاکٹروں کی گئی جدید تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کا وقت دل اور شریانوں کی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ڈاکٹر گِرا نے ایک لاکھ سے زائد بالغ افراد پر 7 سال سے زائد عرصے تک کی جانے والی ایک بڑی طبی تحقیق کا حوالہ دیا، جس میں دیکھا گیا کہ دیر سے کھانا کھانے والے افراد میں دل کی بیماریوں، فالج اور شریانوں کی رکاوٹ کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ تھے۔
ماہرین کے مطابق انسان کا جسم 24 گھنٹے کے ایک قدرتی نظام یا جسمانی گھڑی (سرکادین ریدھم) پر کام کرتا ہے، جو بلڈ پریشر، ہارمونز اور میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، رات کو دیر سے کھانا کھانے سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے، جس سے انسولین کی صلاحیت اور بلڈ شوگر کی شرح خراب ہوجاتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد رات 8 بجے سے پہلے ڈنر کر لیتے ہیں، ان کے مقابلے میں 9 بجے کے بعد کھانا کھانے والوں میں دماغ کی شریانوں سے جڑی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر نے واضح کیا کہ 9 بجے کے بعد کھانا براہِ راست بیماری پیدا نہیں کرتا، لیکن یہ غیر متوازن طرزِ زندگی اور دیر سے سونے جیسی بری عادات سے جڑا ہوا ہے، جو بالواسطہ دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی خبر ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔