امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے صحافتی اداروں کو ’غدار گندگی‘ قرار دے دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج پہلے سے کہیں زیادہ مقدار میں ہتھیار تیار کر رہی ہے اور امریکا کے پاس اتنے ہتھیار موجود ہیں جتنے کبھی استعمال بھی نہیں کیے جا سکتے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ان میڈیا اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ایران جنگ کے دوران امریکا کے دفاعی اور حملہ آور ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی خبریں دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ متعدد میڈیا ادارے جنگ کی صورتِ حال درست انداز میں رپورٹ نہیں کر رہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل اگست میں بھی ایسی رپورٹس پر برہم ہو چکے ہیں، اس وقت ایک امریکی اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے ہتھیاروں کی کمی پر ناراض تھے۔
ٹرمپ نے ان معلومات کے افشا کو ’غداری پر مبنی بیانات‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معلومات صحافیوں تک پہنچانے والے افراد کو تلاش کیا جائے گا اور ان افراد کو طویل قید کی سزائیں دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
متعدد امریکی میڈیا اداروں کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی فوج کے ہتھیاروں اور دیگر فوجی سامان کے ذخائر پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے، خصوصاً وہ دفاعی نظام جو امریکی فوجی اڈوں اور خطے میں اتحادیوں کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے بچانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جولائی تک امریکا کے پاس پیٹریاٹ میزائل روکنے والے نظام کے ایک تہائی سے کچھ زیادہ میزائل جبکہ تھاڈ دفاعی نظام کے تقریباً نصف میزائل باقی رہ گئے تھے۔
جنگ کے دوران ٹوماہاک میزائل، مشترکہ فضائی حملہ آور میزائل اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل سمیت کئی اہم حملہ آور ہتھیار بھی بڑی تعداد میں استعمال کیے گئے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے دفاعی کمپنیوں کے ساتھ پیداوار تیز کرنے کے لیے نئے معاہدوں کے باوجود اہم ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ مکمل کرنے میں کم از کم 2 سال لگ سکتے ہیں۔
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی فوجی حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ قلیل مدت میں ہتھیاروں کی یہ کمی امریکا کی دفاعی صلاحیت اور مخالف ممالک کے خلاف باز رکھنے کی پالیسی کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ٹرمپ کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صحافتی تنظیموں کے مطابق 2025ء میں دوبارہ صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے تنقیدی کوریج کرنے والے میڈیا اداروں کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کی درخواستیں اور انتظامیہ سے خفیہ معلومات افشا کرنے والے صحافیوں کے ذرائع کا پتہ لگانے کے لیے صحافیوں کو قانونی نوٹس بھیجنا شامل ہے۔