امریکی حکومت کی ایک نئی تجویز کے نتیجے میں ہزاروں H-4 ویزا رکھنے والوں سے امریکا میں قانونی طور پر کام کرنے کا حق واپس لیا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئی تجویز کے نتیجے میں ایک ایسی پالیسی ختم ہو جائے گی جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے نافذ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ H-1B ویزا رکھنے والوں کے شریکِ حیات کے لیے ورک پرمٹ ختم کرنا چاہتی ہے، اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو 2015ء میں نافذ کیے گئے اس ضابطے کو واپس لے لیا جائے گا، جس کے تحت اہل H-4 ویزا رکھنے والوں کو گزشتہ 10 برس سے زائد عرصے سے امریکا میں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت حاصل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو امکان ہے کہ بھارتی پیشہ ور افراد اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ H-4 ورک پرمٹ رکھنے والوں کی بڑی تعداد بھارتی شہریوں پر مشتمل ہے۔
2014ء سے 2017ء کے دوران H-4 ایمپلائمنٹ آتھرائزیشن ڈاکیومنٹ (EAD) کی درخواستوں کے اعداد و شمار کے مطابق منظور کیے گئے 93 فیصد ورک پرمٹ بھارتی شہریوں کو جاری کیے گئے، جبکہ ان میں سے 94 فیصد خواتین تھیں۔
یہ منصوبہ آفس آف انفارمیشن اینڈ ریگولیشن افیئر کے تحت Reginfo.gov پر درج کیا گیا ہے، جس کا عنوان ’روزگار کے اجازت نامے کے اہل غیر شہریوں کے زمروں سے H-4 ویزا کے حامل انحصار کرنے والے شریکِ حیات کا اخراج‘ ہے۔
اسے محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے طویل مدتی ضابطہ جاتی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے، تاہم اسے جاری کرنے کے لیے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
ڈی ایچ ایس کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ایچ 1 بی نان امیگرنٹ کارکنوں کے بعض ایچ 4 زیرِ کفالت شریکِ حیات کو ایسے غیر شہریوں کے زمرے سے خارج کرنے کی تجویز دے رہا ہے جو (c)(26) کیٹیگری کے تحت ملازمت کی اجازت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔
ڈی ایچ ایس کی تجویز میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام 2015ء کے حتمی ضابطے ’شریکِ حیات پر انحصار کرنے والے H-4 ویزا کے حامل مخصوص افراد کے لیے ملازمت کا اجازت نامہ‘ میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس لے گا اور محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی اس طویل عرصے سے جاری پالیسی کو بحال کرے گا جس کے تحت H-4 زیرِ کفالت شریکِ حیات کو ملازمت کی اجازت کے لیے درخواست دینے کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ یہ فی الحال صرف ایک تجویز ہے، حتمی ضابطہ نہیں اور اس کے نتیجے میں H-4 ورک پرمٹ فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
اسے نافذ کرنے سے پہلے ڈی ایش ایس کو فیڈرل رجسٹر میں باضابطہ نوٹس آف پرپوزڈ رولمیکنگ شائع کرنا ہو گا، عوام کو اپنی آراء اور اعتراضات جمع کرانے کا موقع دینا ہو گا اور اس کے بعد حتمی ضابطہ جاری کرنا ہو گا۔
اس عمل کی تکمیل تک درست EAD رکھنے والے H-4 شریکِ حیات موجودہ قواعد کے تحت کام جاری رکھ سکتے ہیں۔