گلاسگو: اسکاٹش حکومت نے اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے آزادی کے لیے مجوزہ ریفرنڈم بل شائع کر دیا ہے جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کی آزادی کا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے کہا ہے کہ 2014 کے ریفرنڈم کے بعد دنیا میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں، خصوصاً برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا (بریگزٹ) نے سیاسی اور معاشی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اس لیے سکاٹ لینڈ کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں دوبارہ فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔
مجوزہ بل میں 2014 کے ریفرنڈم کی طرح یہی سوال برقرار رکھا گیا ہے کہ ’کیا اسکاٹ لینڈ ایک آزاد ملک ہونا چاہیے؟‘
اسکاٹش حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بل اس وقت پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جب اس کے لیے ضروری آئینی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام اس کے پہلے سو دن کے پروگرام کا حصہ ہے۔
جان سوئنی نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کے مستقبل کے بارے میں سب سے بہتر فیصلے وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس ملک میں رہتے ہیں۔ ان کے بقول بریگزٹ کے بعد اسکاٹ لینڈ کو یورپی یونین سے اپنی مرضی کے خلاف باہر ہونا پڑا جس نے 2014 کے حالات کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، اس لیے اب عوام کو دوبارہ اپنی رائے دینے کا موقع ملنا چاہیے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت اور یونین نواز جماعتوں نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت دوسرے آزادی ریفرنڈم کی کوئی گنجائش نہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اسکاٹش حکومت کو آئینی بحث کے بجائے معیشت، صحت، مہنگائی اور عوامی خدمات پر توجہ دینی چاہیے جبکہ اسکاٹش حکومت کا مؤقف ہے کہ سکاٹ لینڈ کے آئینی مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔