قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون سب کا مشترکہ ملک ہے، یہاں کوئی آقا اور غلام نہیں، آئین اور قانون کے مطابق تمام قومیتوں کو حقوق اور برابری ملنی چاہیے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام تین روزہ گرینڈ پشتون قومی جرگہ شروع ہوگیا، جس کی صدارت نواب ایاز خان جوگیزئی کر رہے ہیں۔
جرگے میں مختلف علاقوں سے پشتون قبائلی عمائدین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں، جبکہ چیئرمین پی کے میپ اور قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی بھی جرگے میں شریک ہیں۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا یہ جرگہ بنوں قومی جرگے کے فیصلوں کا تسلسل ہے، یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پوری پشتون قوم کی بقا کا جرگہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں کی پہاڑیاں لیتھیم، سونے، چاندی، تانبے اور نایاب معدنیات سمیت بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، لیکن ان خزانوں کے باوجود ہمارے باصلاحیت نوجوان دبئی میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ پشتون دہشت گرد نہیں بلکہ مہمان نواز، انسان دوست اور پرامن قوم ہیں، زیارت سانحے سمیت پے در پے ہونے والے خونریز واقعات اور بدامنی کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں پشتونوں کی جان، مال اور عزتیں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
چیئرمین پی کے میپ نے کہا کہ بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں، پشتون قوم کا آخری راستہ بھی سیاسی مذاکرات ہی ہے، ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے بلکہ اپنی سرزمین کے وسائل پر جائز اور آئینی حق چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پشتون قوم کے مستقبل کے فیصلے اسی گرینڈ قومی جرگے میں ہوں گے۔
جرگہ انتظامیہ کے مطابق پی کے میپ کے زیر اہتمام تین روزہ گرینڈ پشتون قومی جرگہ یکم ستمبر تک جاری رہے گا۔