برطانیہ کی جیلوں میں اس وقت ہر پانچ میں سے ایک، یعنی تقریباً بیس فیصد، مسلمان قیدی سفید فام ہیں، جو مجموعی مسلم آبادی میں سفید فام مسلمانوں کے تناسب کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ شرح ہے۔
اس صورتحال پر چند ارکانِ پارلیمنٹ نے جیلوں میں مذہب کی تبدیلی کے لیے مبینہ دباؤ کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارتِ انصاف کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں 15,909 مسلمان قیدی موجود تھے، جو کل قیدی آبادی کا تقریباً 18.2 فیصد بنتے ہیں۔
دوسری جانب برطانیہ کی مجموعی مسلم آبادی میں سفید فام مسلمانوں کا تناسب تقریباً 5.8 فیصد ہے، جس کے باعث یہ اعداد و شمار بعض حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
شیڈو جسٹس سیکریٹری نک ٹموتھی نے کہا ہے کہ ماضی میں ماہرین اور بعض سابق جیل حکام کی جانب سے ایسے خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ کچھ قیدیوں پر تحفظ یا سہولتوں کے بدلے اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، جبکہ بعض جیلوں میں منظم گروہوں کے اثر و رسوخ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موجودہ سرکاری اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سفید فام قیدیوں نے جیل میں جانے کے بعد ہی اسلام قبول کیا تھا۔
ماہرینِ قانون اور فوجداری انصاف کا کہنا ہے کہ صرف مذہبی یا نسلی اعداد و شمار کی بنیاد پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
ان کے مطابق اصل صورتحال جاننے کے لیے جیلوں میں درج شکایات، حفاظتی ریکارڈ، انٹیلی جنس رپورٹس اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق مبینہ واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا واقعی کسی قسم کا دباؤ موجود ہے یا مذہب کی تبدیلی افراد کا ذاتی اور رضاکارانہ فیصلہ ہے۔